پاکستان اورسعودی عرب کا دفاعی معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں ،خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ پاکستان اورسعودی عرب کا دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ، پاکستان کے خلاف جارحیت ہویاسعودی عرب کے خلاف ،ملکردفاع کیاجائے گا،خطے کے ممالک کا حق ہے کہ وہ ملکر خطے اور عوام کا تحفظ کریں۔
نجی ٹی وی سے گفتگوکرتےہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ دفاعی معاہدے سے پاک سعودی تعلقات واضح ہوئے ہیں ہم نے اپنابنیادی حق ایکسرسائز کیاہے،ہماری صلاحیتیں اس معاہدے کے تحت دستیاب ہوں گی، معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کہ کوئی دوسراملک اس میں شامل نہیں ہوسکتا،تاہم
کسی دوسرے ملک کی معاہدے میں شمولیت کاکہناقبل ازوقت ہے لیکن دروازے بندنہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کا حق ہے کہ وہ ملکر خطے اور عوام کا تحفظ کریں، امریکہ کے بھی کئی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے ہیں۔
معرکہ حق میں کامیابی کے بعد دنیاپاکستان کازیادہ ذکرکررہی ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت عزت اور وقاردیا، حرمین شریفین کا تحفظ مقدس فریضہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں چین دنیاکو لیڈکررہاہوگا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ کابل حکومت مخلص نہیں ہے ،افغاستان ایک hostile ملک ہے،ہم نے افغانستان کے لئے دوجنگیں لڑیں، ہمارا کوئی تعلق نہیں تھاکہ ان جنگو ں میں شامل ہوتے،ان جنگوں میں شرکت کی وجہ سے ہماراامن متاثرہوا،روزجنازے اٹھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :