بھارت کا ایک اور ڈرامہ، پاکستانی ٹیم کو نئے تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں ہینڈ شیک تنازع ختم ہونے کے 24 گھنٹے بعد بھارتی میڈیا اور آئی سی سی میں کام کرنے والے بھارتی افسران نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک اور تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے۔آئی سی سی کی جانب سےمیچ ریفری کی معذرت کے دوران ویڈیو بنانے اور اسے میڈیا میں ریلیز کرنے پر اعتراض کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دبئی میں بدھ کو متحدہ عرب امارات کے خلاف ایشیا کپ کے میچ سے قبل جب آئی سی سی حکام، ٹیم انتظامیہ کی موجودگی میں میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے معذرت کی، اس وقت پاکستانی ٹیم کے میڈیا منیجر نعیم گیلانی نے ٹورنامنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پلیئرز میچ آفیشلز ایریا میں فلم بندی کی۔آئی سی سی نے بدھ کو ہونے والے میچ سے قبل کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز ایریا (پی ایم او اے) کے پروٹو کول کی’بدانتظامی‘ اور’متعدد خلاف ورزیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک ای میل بھیجی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے سی ای او سنجوگ گپتا نے پی سی بی کو لکھا ہے کہ پاکستانی ٹیم انتظامیہ کے ایک رکن میچ کے دن پی ایم او اے کی بار بار خلاف ورزیوں کے قصوروار قرار پائے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔