پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدہ: عالمی میڈیا نے پیشرفت کو خطے کیلئے اہم قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی دفاعی معاہدے نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں نئی جہت متعارف کروا رہا ہے اور اس کے اثرات بھارت سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے تجزیہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی اتحاد ایک نئی دفاعی صف بندی کی عکاسی کرتا ہے، جو امریکا پر خلیجی ریاستوں کے کم ہوتے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔
عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملے نے خطے کو جھنجھوڑ دیا ہے اور اب واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک امریکا پر اپنا انحصار کم کر رہے ہیں۔
امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چین، ترکی اور اب سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل ہے، جس سے پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA) پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر بیرونی حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا، جو باہمی تعلقات اور مشترکہ سکیورٹی تعاون کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔