وزیراعلیٰ کے پی کا نجی ٹی وی کے صحافی کو سوالات پوچھنے پر ایک ارب ہرجانے کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے نجی ٹی وی چینل کے صحافی عبداللہ مومند کو سوالات پوچھنے پر ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی نے نوٹس میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ہاؤس میں صحافی نے بدنیتی پر مبنی سوالات پوچھے، سوال پوچھا گیا خیبرپختونخوا میں حکومت کون چلا رہا ہے؟ پوچھا گیا عمران خان کے حکم باوجود تیمور جھگڑا اور کامران بنگش کو کابینہ کا حصہ کیوں نہیں بنایا؟
نوٹس کے مطابق کہا گیا کہ فیصل امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے معاملات چلا رہے ہیں،
یہ سوال ڈی فیمیشن آرڈیننس 2002 کے سیکشن تین اور چار کے زمرے میں آتا ہے، اس سوال سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی شہرت کو نقصان پہنچا، اس سوال سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اس سوال سے رشتہ داروں، ساتھیوں اور عوام کی نظر میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی عزت کم ہوئی۔
نوٹس کے متن میں کہا گیا کہ یہ سوال نہ صرف توہین آمیز تھا بلکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھی، صحافی نے یہ سوال پوچھ کر صوبے کے چیف ایگزیکٹو، صوبائی حکومت کی بدنامی کی، فیصل امین گنڈاپور پر اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق سوال فوج داری قوانین کے زمرے میں آتا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا کہ صحافی ڈی فیمیشن آرڈیننس 2002ء کے تحت سات دن کے اندر غیر مشروط تحریری معافی مانگے، معافی نہ مانگنے کی صورت میں متعلقہ ایجنسی میں سائبر کرائم قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔