پاکستان میں ربیع الثانی کا آغاز ممکنہ طور پر 24 ستمبر کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے ربیع الثانی 1447 ہجری کے نئے چاند سے متعلق فلکیاتی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، نیا چاند 22 ستمبر 2025 کو رات 12 بج کر 54 منٹ پر (پاکستان معیاری وقت کے مطابق) پیدا ہونے کی توقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق سپارکو کےترجمان نے کہا ہے کہ 23 ستمبر 2025 کو سورج غروب ہونے کے وقت تک نئے چاند کی عمر تقریباً 41 گھنٹے اور 54 منٹ ہوگی، اس عمر کا چاند بآسانی دیکھا جاسکتا ہے بشرطیکہ موسم صاف ہو اور بادل یا گردوغبار کا کوئی اثر نہ ہو۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کے ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور غروب ماہتاب کے درمیان فرق تقریباً 46 منٹ ہوگا جو چاند دیکھنے کے امکانات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس حساب سے پاکستان میں 23 ستمبر کی شام کو نئے چاند کی رویت کے قوی امکانات موجود ہیں، اگر چاند کی شہادتیں معتبر طور پر موصول ہو جاتی ہیں تو یکم ربیع الثانی 1447 ہجری کا آغاز 24 ستمبر 2025 بروز بدھ کو ہوگا۔
ترجمان نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اسلامی مہینوں کے آغاز کے اعلان کا اختیار صرف رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کے پاس ہے، کمیٹی ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کی جانچ پڑتال کرتی ہے اور پھر باقاعدہ اعلان کرتی ہے۔ اس لیے فلکیاتی اعداد و شمار کو رہنمائی کے طور پر ضرور استعمال کیا جاتا ہے لیکن حتمی فیصلہ ہمیشہ کمیٹی کی جانب سے ہی جاری کیا جاتا ہے۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سائنسی بنیادوں پر کی گئی یہ پیش گوئی عوام کو پہلے سے آگاہ کرنے اور متعلقہ اداروں کو تیاری کا موقع فراہم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود موسم کی تبدیلی یا مقامی حالات رویت کے امکانات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :