حیدرآباد:مرکزی مسلم لیگ کا متاثرین سیلاب کیلیے امدادی سامان روانہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے شعبہ خدمت کے زیرِ اہتمام سیلاب متاثرین کے لیے خشک راشن، ادویات اور دیگر ضروری امدادی سامان روانہ کیا گیا۔اس موقع پرپریس کانفرنس کرتے ہوئے کرتے ہوئے صدر مرکزی مسلم لیگ سندھ، فیصل ندیم نے کہا کہ ملک کے بیشتر علاقے سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ ابتدا ہی سے اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ بھر سے رضا کار اور سامان کے امدادی قافلے روز اول سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں قبل گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں بنیر سوات میں بھر پور خدمات سرانجام دی اس وقت جنوبی پنجاب میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں سندھ کی جانب سے دو بڑی خیمہ بستیاں قائم کی جاچکی ہیں سندھ کے دریا کے اندر کچے کے مکینوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے ایک ھزار سے زائد خاندانوں کو سندھ کے علاقوں جہان دریا سندھ گذرتا ہے سکھر روھڑی گڈو کشمور گھوٹکی سومرا پہنواری بند لوپ بند وغیرہ سے ریسکیو کرکے بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جلال پور پیر والا میں مسلسل ریسکیو کا عمل جاری ہے ابتک مرکزی مسلم لیگ ھزاروں لوگوں کو جنوبی پنجاب میں سیلاب زدہ علاقوں سے نکال کر مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ جلال پور پیر والا میں سیلاب متاثرین کے لیے دوعدد ماڈل خیمہ بستی قائم کی گئیں ہیں صدر حیدرآباد ڈویژن،مرکزی مسلم لیگ عقیل احمد نے اس موقع پر کہا کہ اہلیانِ حیدرآباد ہمیشہ خیر اور تعاون میں آگے رہتے ہیں۔ حیدرآباد کی جانب سے بھی مختلف متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ حیدرآباد سے رضاکاروں کی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان، اسکردو، بونیر، سوات، سکھر روھڑی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں سندھ بھر اور خصوصا حیدر آباد سے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے اپنی خدمات سرانجام دی ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مرکزی مسلم لیگ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔