حیدرآباد:مرکزی مسلم لیگ کا متاثرین سیلاب کیلیے امدادی سامان روانہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے شعبہ خدمت کے زیرِ اہتمام سیلاب متاثرین کے لیے خشک راشن، ادویات اور دیگر ضروری امدادی سامان روانہ کیا گیا۔اس موقع پرپریس کانفرنس کرتے ہوئے کرتے ہوئے صدر مرکزی مسلم لیگ سندھ، فیصل ندیم نے کہا کہ ملک کے بیشتر علاقے سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ ابتدا ہی سے اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ بھر سے رضا کار اور سامان کے امدادی قافلے روز اول سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں قبل گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں بنیر سوات میں بھر پور خدمات سرانجام دی اس وقت جنوبی پنجاب میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں سندھ کی جانب سے دو بڑی خیمہ بستیاں قائم کی جاچکی ہیں سندھ کے دریا کے اندر کچے کے مکینوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے ایک ھزار سے زائد خاندانوں کو سندھ کے علاقوں جہان دریا سندھ گذرتا ہے سکھر روھڑی گڈو کشمور گھوٹکی سومرا پہنواری بند لوپ بند وغیرہ سے ریسکیو کرکے بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جلال پور پیر والا میں مسلسل ریسکیو کا عمل جاری ہے ابتک مرکزی مسلم لیگ ھزاروں لوگوں کو جنوبی پنجاب میں سیلاب زدہ علاقوں سے نکال کر مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ جلال پور پیر والا میں سیلاب متاثرین کے لیے دوعدد ماڈل خیمہ بستی قائم کی گئیں ہیں صدر حیدرآباد ڈویژن،مرکزی مسلم لیگ عقیل احمد نے اس موقع پر کہا کہ اہلیانِ حیدرآباد ہمیشہ خیر اور تعاون میں آگے رہتے ہیں۔ حیدرآباد کی جانب سے بھی مختلف متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ حیدرآباد سے رضاکاروں کی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان، اسکردو، بونیر، سوات، سکھر روھڑی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں سندھ بھر اور خصوصا حیدر آباد سے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے اپنی خدمات سرانجام دی ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مرکزی مسلم لیگ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔