data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپرورٹر)عافیہ موومنٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ میری بہن اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور امریکی عدالت کے غیرمنصفانہ فیصلے کے خلاف کراچی میں پرامن ’’فری عافیہ بائیک ریلی‘‘ سمیت حیدرآباد، لاہور،راولپنڈی، پشاور، لکی مروت و دیگر شہروں میں منعقد ہونے والے پروگرامات میں عافیہ موومنٹ کے سپورٹرز بھرپور شرکت کریں۔انہوں نے کہ امریکی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ہر سال پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پرامن احتجاج کیا جاتا ہے۔کراچی میں اتوار، 21 ستمبر کو سہہ پہر 3بجے نمائش چورنگی سے سندھ ہائی کورٹ تک ’’فری عافیہ بائیک ریلی‘‘ نکالی جائے گی جس کی قیادت عافیہ موومنٹ صوبہ سندھ کے صدر ایس کے مروت اور کراچی کے صدر شیخ محمد شکیل کریں گے ۔ جس میں عافیہ موومنٹ کے سپورٹرز سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور دینی جماعتوں کے کارکنان شرکت کریں گے۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو دفاع کے قانونی حق سے محروم رکھ کر اور یکطرفہ عدالتی کاروائی کے ذریعے نیویارک ، امریکہ کی ایک عدالت کے جج رچرڈ برمن نے2010ء میں 86سال کی سزاسنائی تھی، جسے دنیا کے کئی معروف قانون دان یکطرفہ اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ قرار دے کر رد کر چکے ہیں ۔امریکی عدالت کے اس فیصلہ کو سن کر ڈاکٹر عافیہ نے کمرہ عدالت میں ہی جج رچرڈ برمن کو معاف کردیا تھا اور اپنے سپورٹرز سے اپیل کی تھی کہ میرے نام پر کوئی تشدد نہ کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عدالت کے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک