جشن میلاد النبی کے بابرکت مہینےکی مناسبت سےپاکستانی سفارت خانہ واشنگٹن ڈی سی میں محفل میلاد کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں محفل میلاد کا انعقاد کیا گیا۔حسبِ روایت محفل کا انعقاد امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کی زوجہ محترمہ لبنی رضوان کی جانب سے کیا گیا۔ درودو سلام اور شانِ نبی ﷺ میں نعیتہ کلام پر مبنی اس بابرکت محفل میں امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
تقریب کے آغاز میں محترمہ لبنیٰ رضوان نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ربیع الاول کا مقدس و بابرکت موقع ہمیں ہمارے پیارے نبی، حضرت محمد ﷺکی ولادت باسعادت کی یاد دلاتا ہےجن کی زندگی رحمت، محبت، اور ہدایت کا روشن مینار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ربیع الاول کے موقع پر پاکستانی سفارت خانے میں ایسی بابرکت محفل کا انعقاد نہ صرف ہمیں آنحضورﷺ کی شان ِ اقدس میں درود و سلام پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی سعادت بھی عطا کرتا ہے تاکہ ہم اپنی روز مرہ کی زندگیوں کو ان سنہری اصولوں کے مطابق ڈھال سکیں ۔
شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے بیگم لبنیٰ رضوان نے کہا کہ بحیثیت تارکین وطن ہم پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ “جہاں ایک طرف ہم نے اپنے دین، اپنے وطن اور اپنی تہذیب و تمدن کی حفاظت کرنی ہے وہاں ہم نے اپنے طرزِ عمل سے یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ ہم واقعی اس نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں جو ہر لحاظ سے بالا و افضل ہیں۔ ”
انہوں نے کہا آج کی اس متبرک محفل میں ہم اس سال مئی کے مہینے میں اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی خاص مہربانی سے حاصل ہونے والی معرکہ حق میں فتح پر بھی تشکر کے جذبات کا عاجزانہ نذرانہء عقیدت پیش کرتے ہیں۔
اس موقع پر محترمہ زہرا نورانی، محترمہ راحیلہ فردوس، الماس آصف، انیلہ ، عظمیٰ ولی، نیئر نقوی ، تسنیم رئیس ،تہمینہ علی اور محترمہ طیبہ نے آنحضور ﷺ کی شان میں اپنے کلام اور نعتیہ اشعار کی صورت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔
محفل کا اختتام وطن عزیز کی سربلندی اور حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے خصوصی دعا پر کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا انعقاد
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔