سرینگر، میر واعظ کو دوسرے جمعہ بھی نماز کی ادائیگی سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر ہمیں پروفیسر بٹ کی نماز جنازہ میں شریک ہونے کی اجازت دی جاتی تو کوئی طوفان نہیں آ جاتا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق کو مسلسل دوسرے جمعہ سرینگر میں اپنے گھر میں نظر بند کر کے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے ”ایکس“ پر اپنے بیان میں کہا کہ مجھے مسلسل دوسرے جمعہ جامع مسجد جانے سے روک دیا گیا ہے، حکام کا یہ عمل ہمارے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمیں پروفیسر بٹ کی نماز جنازہ میں شریک ہونے کی اجازت دی جاتی تو کوئی طوفان نہیں آ جاتا، انھوں نے کیا حکام فوت ہو جانے والوں سے بھی اتنے خوفزدہ ہیں، یہ سارا عمل آمرانہ تسلط کی عکاسی کرتا ہے۔ قبل ازیں انتظامیہ نے میر واعظ کو بدھ کی شام گھر میں نظر بند کر کے انہیں پروفیسر عبدالغنی بٹ کی نماز جنازہ میں شرکت سے روک دیا تھا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری بیان میں میر واعظ عمر فاروق کی گھر میں نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت حق پر مبنی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لئے انتہائی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور وہ اپنے شہداء کے عظیم مشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہیں۔ ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف جاری سنگین بھارتی جرائم کا نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: واعظ عمر فاروق میر واعظ کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔