حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، 494 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجا کی ہدایت پر حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جب کہ رواں سال غیر قانونی کرنسی ایکسچینج اور حوالہ ہنڈی میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف 384 چھاپے مارے گئے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق حوالہ ہنڈی اور کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزمان کے خلاف 396 مقدمات درج کیے گئے، ملک گیر کارروائیوں میں 494 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، ملزمان سے مجموعی طور پر 1 ارب 49 کروڑ روپے ریکور کیے گئے۔
بیان کے مطابق برآمد کی گئی کرنسی میں 4 لاکھ 66 ہزار سے زائد امریکی ڈالر شامل ہیں، برآمد شدہ کرنسی میں 23 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی دیگر غیر ملکی کرنسی بھی شامل ہے۔
ترجمان کے مطابق برآمد شدہ کرنسی میں 1 ارب 13 کروڑ پاکستانی روپے شامل ہے، ملک گیر چھاپوں کے دوران متعدد دکانوں کو بھی سیل کیا گیا، ملوث نیٹ ورکس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرنسی ایکسچینج حوالہ ہنڈی میں ملوث کے خلاف
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔