کپل شرما مشکل میں پڑگئے، 25 کروڑ کا لیگل نوٹس مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
معروف بھارتی کامیڈین اور میزبان کپل شرما کو اپنے شو میں بابو راؤ کا کردار پیش کرنے پر لیگل نوٹس مل گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلم پروڈیوسر فیروز ناڈیاوالا نے شو کو فلم ہیرا پھیری کا مشہور کردار بابو راؤ پیش کرنے پر 25 کروڑ روپے کا نوٹس بھیجا ہے۔
دی گریٹ انڈین کپل شو میں مشہور بابو راؤ کردار کامیڈین کیکو شردا نے ادا کیا تھا جس پر شو کو کاپی رائٹ ایکٹ اور ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے لیگل نوٹس بھیجا گیا جبکہ اس شو کے اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس کو بھی فیروز ناڈیاوالا کی جانب سے لیگل نوٹس بھیجا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مشہور زمانہ کامیڈی فلم ہیرا پھیری میں بابو راؤ گنپت راؤ آپٹے کا کردار سینئر اداکار پاریش راول نے ادا کیا تھا جو بھارت سمیت پاکستان میں بھی بےحد مقبول ہے۔
فلم پروڈیوسر فیروز ناڈیاوالا اس مشہور کردار کے حقوق کے مالک ہیں اور انہوں نے یہ دعویٰ ہے کہ یہ کردار دی انڈین کپل شرما شو میں ان کی اجازت کے بغیر پیش کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لیگل نوٹس
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔