بھارتی ریاست کیرالا میں ’دماغ کھانے والے جراثیم‘ کی وبا شدت اختیار کرگئی، 19 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
بھارتی ریاست کیرالا میں ایک خطرناک نایاب بیماری ’برین ایٹنگ ایمیبا‘ (Brain-eating Amoeba) یعنی پرائمری ایمیوبک مینینگو اینسیفلائٹس (PAM) نے اب تک 19 افراد کی جان لے لی جبکہ درجنوں متاثر ہو چکے ہیں۔
یہ بیماری ناگلیریا فاولیری نامی خوردبینی جراثیم سے پھیلتی ہے جو عموماً نیم گرم میٹھے پانی اور مٹی میں پایا جاتا ہے۔ یہ ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر دماغی خلیات پر حملہ کرتا ہے جس سے دماغ میں شدید سوجن اور سوزش پیدا ہوتی ہے اور اکثر چند دنوں میں موت واقع ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا ٹوائلٹ سیٹ سے جنسی و دیگر بیماریاں لگ سکتی ہیں؟
حکام کے مطابق مریضوں کی عمریں 3 ماہ کے بچے سے لے کر 91 سالہ بزرگ تک ہیں جس کے باعث متاثرہ مقامات یا ایک ہی ذریعہ آلودگی تک رسائی کی نشاندہی مشکل ہو رہی ہے۔
کیرالا کی وزیر صحت وینا جارج نے اس صورتحال کو سنگین عوامی صحت کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کے کیسز کسی ایک آبی ذخیرے سے منسلک پائے گئے تھے لیکن اس بار یہ الگ الگ اور تنہا کیسز ہیں جس نے تحقیقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بروقت تشخیص سے زندگی بچائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق کیرالا میں مریضوں کی بقا کی شرح 24 فیصد ہے جو کہ عالمی اوسط 3 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کامیابی جلدی تشخیص اور ملٹی فوسین نامی اینٹی پیراسائٹک دوا کے استعمال سے ممکن ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سروائیکل کینسر ویکسین تولیدی صحت کے لیے کتنی محفوظ، پاکستان میں لوگ بائیکاٹ کیوں کررہے ہیں؟
محکمہ صحت کے مطابق اگرچہ کیسز کی تعداد زیادہ نہیں لیکن ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ بروقت علاج کیا جا سکے۔ حکام نے پانی کی صفائی کے اقدامات سخت کر دیے ہیں اور عوام کو جمے ہوئے میٹھے پانی کی جگہوں پر نہانے یا تیراکی سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مرض براہ راست پانی پینے سے نہیں پھیلتا بلکہ آلودہ پانی ناک میں داخل ہونے سے لگتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمیبا بیماری جراثیم وائرس وبا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمیبا وائرس کے مطابق
پڑھیں:
لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
—فائل فوٹولاہور کے علاقے ڈیفنس میں گھر کے بیسمنٹ میں جمع ہونے والے بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں مون سون بارشوں کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 21 ہو گئی۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے میں مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی ہے جس کےمطابق رواں سال مون سون بارشوں سے اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہو گئے۔
ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موسمِ برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور خستہ حال مکانات میں رہائش نہ رکھیں۔