چناب اور ستلج سے اوچ شریف، احمد پور شرقیہ میں تباہی، ایم 5 کا دوسرا حصہ بھی متاثر WhatsAppFacebookTwitter 0 20 September, 2025 سب نیوز

لاہور، ملتان، سکھر: (آئی پی ایس) ستلج اور چناب نے اوچ شریف اور احمد پور شرقیہ میں تباہی پھیر دی، ملتان کے قریب جلال پور پیروالا پر موٹروے ایم 5 کا ایک اور حصہ سیلابی پانی میں بہہ گیا، علی پور میں 4 افراد ڈوب گئے، لاشیں مل گئیں، کچے کے علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی سے انکار کر دیا۔
علی پور کے موضع گھلواں دوئم میں 15 سالہ کاشف گبول ڈوب کر جاں بحق ہوا، دوسرے واقعہ میں راشن لینے گئے تین ماموں بھانجا بھی سیلابی پانی میں ڈوب گئے، جاں بحق افراد کی شناخت نادر، رستم اور حافظ بابر کے ناموں سے ہوئی، پاک فوج، ایدھی فاؤنڈیشن اور ریسکیو ٹیم نے چاروں لاشیں برآمد کر لیں
جلال پور پیروالا پر موٹروے ایم 5 کا ایک اور حصہ سیلابی پانی میں بہہ گیا۔
چیف پولیس آفیسر ملتان کے مطابق موٹروے ایم فائیو کا مشرقی حصہ شگاف پڑنے سے سیلاب میں بہہ گیا، اس سے پہلے ایم فائیو کا مغربی حصہ سیلاب میں بہہ گیا تھا، موٹروے پولیس اور این ایچ اے کا عملہ مشینری کے ساتھ موقع پر موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موٹر وے پر دریائے ستلج کا پانی شدید بہاؤ کے ساتھ دریائے چناب کی جانب بہہ رہا ہے، پانی کا بہاؤ کم کرنے کے لیے شگاف میں پتھر ڈالے جا رہے ہیں، ملتان سے جھانگڑہ تک 8 ویں روز بھی موٹروے بند ہے۔
منچن آباد میں ستلج کے پانی سے 60 دیہات زیر آب ہیں، بستی ورکاں والی، بستی کھرلاں، بستی بھٹیاں، بستی امانے والی اور بستی فاضل شدید متاثر ہیں، متاثرہ دیہات کے اطراف 6 سے 7 فٹ پانی موجود ہے، زمینی راستے بحال نہ ہو سکے۔
ہر طرف سیلابی پانی سے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
دریائے ستلج اور چناب کے ریلوں نے اوچ شریف اور احمد پور شرقیہ میں تباہی پھیر دی، علاقہ بڈانی ، چک کہل ، کچی شکرانی اور دیگر علاقوں کی رابطہ سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں، سیلاب متاثرین، خواتین ، بچے سیلابی پانی سے گزر کر گھروں کو واپس جانے لگے۔
متاثرین اپنے منہدم مکانات، فصلوں اور باغات کی تباہی دیکھ کر اشک بار ہو گئے۔
چک کہل ، رسول پور ، مکھن بیلہ ، بختیاری ، اسماعیل پور ، ترنڈ بشارت اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی موجود ہے، سیلاب متاثرین نے مکانات اور فصلوں کے نقصانات کے جلد ازالہ کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری طرف دریائے ستلج میں بہاولنگر کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب سے فصلیں تباہ ہو گئیں، زمینی رابطے منقطع ہو گئے۔

سیلاب سے شجاع آباد کی بستی ماڑا میں خوفناک تباہی ہوئی، متاثرین تاحال گھروں میں آباد نہیں ہو سکے۔

لیاقت پور سے سندھ اور چناب کے ریلے گزر گئے مگر نشانات پیچھے چھوڑ گئے ہیں، 35موضع جات کی سیکڑوں بستیوں میں مکانات منہدم ہو چکے، فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔

کسی کا کمرہ تو کسی کی چاردیواری اور سیکڑوں گھر مکمل گر گئے ، سیلاب کی تباہ کاریوں سے رابطہ سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکارہیں، سیلاب متاثرین خواتین، بچوں کے ہمراہ پانی سے گزر کر گھروں کو واپس جانے لگے۔

سندھ
ادھر دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 19 ہزار 180 کیوسک اور پانی کا اخراج2 لاکھ 90 ہزار 819 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سکھر بیراج پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 420470 کیوسک اور اخراج 367090 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
کچے کے علاقوں سے دریائے سندھ کا سیلابی پانی کم ہونا شروع ہوگیا ہے، سیہون کی تین یونین کونسلز کے کچے میں سیلابی صورتحال برقرار ہے۔
سیہون تحصیل کے 50 اور مانجھند تحصیل میں 20 سے زائد دیہات زیر آب ہیں، سیکڑوں ایکڑز پر مشتمل کپاس، پیاز، آلو سمیت دیگر فصلیں ڈوب چکی ہیں۔
کچے میں ضلعی انتظامیہ کا ریسکیو و ریلیف آپریشن بھی جاری ہے تاہم کچے کے رہائشی اپنے گھروں تک محدود ہیں اور انہوں نے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے سے انکار کیا ہے۔
دریائے سندھ کے سیہون لاڑکانہ بند پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
دریائے سندھ میں کنڈیارو کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آگیا، کچے کے قدیمی گاؤں بکھری کو بچانے کیلئے بنایا گیا بند توڑ دیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمعروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر وقار مسعود خان انتقال کر گئے معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر وقار مسعود خان انتقال کر گئے بگرام ایئربیس چھوڑنا شرمناک، واپسی کیلئے افغانستان سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملہ سعودی عرب پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا: رانا ثنا پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، خواجہ آصف کھیلوں میں سیاست گھسیٹنے والے بھارت کو دھچکا، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ورکنگ گروپ کا اعلان کردیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: احمد پور شرقیہ میں تباہی اوچ شریف ایم 5 کا

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب