کراچی: متعدد بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے نے اعترافِ جرم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
کراچی کی عدالت میں قیوم آباد میں متعدد بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات کی سماعت کے دوران ملزم نے مجسٹریٹ کے روبرو اعترافِ جرم کرلیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے ملزم کا 164 کا بیان ریکارڈ کرلیا۔
اس موقع پر مجسٹریٹ نے ملزم سے سوال کیا کہ آپ کو پتا ہے کہ آپ اس وقت کہاں موجود ہیں۔
اس پر ملزم نے کہا کہ جی میں اس وقت عدالت میں ہوں اور بیان قلمبند کروانے لایا گیا ہوں۔
آج جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ملزم کو اعترافی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے عدالت میں پیش کیا تھا۔
اعترافی بیان کے بعد عدالت نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت پریڈ اور 4 متاثرہ بچیوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں، ملزم کے خلاف اب تک 6 مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عدالت میں
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔