ممکنہ روسی حملے کا خطرہ، برطانوی جنگی طیاروں نے پولینڈ پر پروازیں شروع کردیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
برطانوی جنگی طیاروں نے پولینڈ کی فضاؤں میں پہلی بار نیٹو کی فضائی دفاعی پرواز سرانجام دی ہے۔ یہ مشن ‘ایسٹرن سینٹری’ آپریشن کا حصہ ہے جس کا مقصد اس ماہ روسی ڈرون کی دراندازی کے بعد مغربی اتحاد کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ یہ اقدام پولینڈ کی فضائی حدود میں روسی مداخلت کے فوراً بعد کیا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے کہا کہ یہ واضح پیغام ہے کہ ‘نیٹو کی فضائی حدود کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔’
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا روس پر نئی پابندیوں کا عندیہ، نیٹو ممالک پر روسی تیل کی خریداری بند کرنے کے لیے دباؤ
جمعہ کی شب برطانوی فضائیہ کے 2 ٹائیفون جنگی طیارے مشرقی انگلینڈ کے ایک فوجی اڈے سے اڑان بھر کر پولینڈ کی فضاؤں میں گشت پر مامور ہوئے اور ہفتہ کی صبح بحفاظت واپس برطانیہ پہنچ گئے۔
برطانوی حکومت نے اس مشن کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی خلاف ورزی قرار دیا ہے جو یوکرین پر غیر قانونی جنگ کے آغاز کے بعد سامنے آئی ہے۔
#RAF Royal Air Force – Typhoon Deployment
Airbus KC.
Eurofighter Typhoon FGR.4 2x:#43C6D5 ZK322 – ASCOT9911X#43CAEF ZK341 – ASCOT9912X
Eastwards deployment of two Typhoon FGR.4's from RAF Coningsby, supported by ASCOT9910 from Brize… pic.twitter.com/YOifMAFyzm
— Armchair Admiral ???????? (@ArmchairAdml) September 19, 2025
چیف آف دی ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل ہارو سمائتھ نے کہا کہ برطانوی طیاروں نے نیٹو کے مشرقی محاذ پر اتحادیوں کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ ان کے بقول، ‘ہم پھرتیلے، مربوط اور طویل فاصلے پر فضائی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہیں۔’
حکومت برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ دفاعی اخراجات کو 2027 تک جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک بڑھایا جائے گا تاکہ یورپ کی سیکیورٹی میں اضافہ ہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اشارہ دیا جا سکے کہ برطانیہ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر بارہا تنقید کی ہے کہ وہ دفاعی اخراجات میں امریکا پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت اور روس چین کے گہرے تاریک سائے میں کھو گئے، ٹرمپ
ادھر یورپ میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب نیٹو رکن ملک اسٹونیا نے الزام لگایا کہ جمعہ کو روس کے 3 فوجی طیاروں نے اس کی فضائی حدود میں 12 منٹ تک پرواز کی جو کہ ‘غیر معمولی طور پر ڈھٹائی’ پر مبنی خلاف ورزی تھی۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے اس پر بھی روس کی ‘بے پرواہ اور خطرناک سرگرمی’ کی شدید مذمت کی اور بتایا کہ یہ حالیہ دنوں میں تیسری بار نیٹو کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہے۔
روسی وزارت دفاع نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے طیارے صرف غیر جانبدار فضاؤں میں پرواز کر رہے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئرفورس برطانیہ پولینڈ روسی حملہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرفورس برطانیہ پولینڈ روسی حملہ کی فضائی حدود طیاروں نے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔