شہباز شریف 26 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے اہم خطاب میں عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور فلسطین بالخصوص غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران کی طرف متوجہ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف 22 ستمبر سے 26 ستمبر 2025ء تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، دیگر وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے اہم خطاب میں عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور فلسطین بالخصوص غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران کی طرف متوجہ کریں گے۔ وہ دنیا پر زور دیں گے کہ کشمیری اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا جائے اور ان کی جدوجہد کو عالمی انصاف کے اصولوں کے مطابق حمایت فراہم کی جائے۔ وزیراعظم 26 ستمبر کو اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی پاکستان کا نقطہ نظر واضح کریں گے، جن میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحانات، ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز اور پائیدار ترقی کے اہداف شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران کئی اعلیٰ سطحی تقریبات میں شریک ہوں گے، جن میں سلامتی کونسل کے اجلاس، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی میٹنگ اور ماحولیاتی تبدیلی پر خصوصی اجلاس شامل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نیویارک میں اپنے قیام کے دوران متعدد عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے، جن میں ایک اہم ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی طے ہے۔ یہ ملاقات چند منتخب اسلامی ممالک کے سربراہان کے ساتھ ہو گی، جس میں خطے کی سلامتی، فلسطین، کشمیر اور عالمی امن پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ اور کثیرالجہتی تعاون کو ہمیشہ اہمیت دیتا ہے اور دنیا بھر میں امن و ترقی کے فروغ میں اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہباز شریف کے مطابق کریں گے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔