چینیوں میں دانتوں پر ٹیٹو بنوانے کا فیش مقبول ہونے لگا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
یہ ایک نیا فیشن ٹرینڈ بن چکا ہے جو چین میں نوجوانوں میں خاص مقبول ہو رہا ہے، جسے “دانتوں پر ٹیٹو کہا جا رہا ہے۔
اصل میں یہ “ٹیٹو” دانتوں پر براہِ راست رنگ کرنے والا کام نہیں بلکہ 3D پرنٹڈ ڈینٹل کراؤنز پر کسٹم ڈیزائن یا الفاظ کندہ کروانے کا رجحان ہے۔
عام ڈیزائن میں شامل ہیں خوش قسمتی کے الفاظ جیسے “Get Rich” ، “Reach Success” یا “Fortune” وغیرہ۔
اخراجات تقریباً 2,000 یوان ہیں جو تقریباً 300 امریکی ڈالرز فی کراؤن ہوتے ہیں۔ قیمت مواد اور ڈیزائن کی مقدار پر منحصر ہے۔
دانتوں کے اسپتالوں میں خاص طور پر نجی کلینکس اس سروس کو فیشن ایبل سروس کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ماہرینِ ڈینٹسٹری خبردار کر رہے ہیں کہ ڈیزائن یا کندہ کاری کراؤن کی مضبوطی اور اس کی طویل مدتی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ مثلاً کراؤن کا مٹ جانا، ٹوٹ پھوٹ، یا استعمال کے بعد خرابی زیادہ ہو سکتی ہے۔
دوسرا خدشہ یہ ہے کہ دانتوں کے نیچے پرائمری یا مٹیرئل کا معیار کم ہو تو زبانی صحت پر منفی اثر پڑے، جیسے جراثیم پھنس جانا یا صفائی کرنا مشکل ہونا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔