پاکستان: کراچی میں تین ٹرانس جینڈر خواتین کی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 21 ستمبر 2025ء) خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں کم رپورٹنگ کی وجہ سے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے خلاف جرائم کے بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف تشدد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ٹرانس جینڈرز کے خلاف جان لیوا تشدد جاری
پاکستان کی ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور تدفین کے مسائل
کراچی شہر کے ایک پولیس اہلکار جاوید احمد ابڑو نے اے ایف پی کو بتایا، ''تین ٹرانس جینڈر خواتین کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ایک شاہراہ پر ملی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''ہم ابھی تک ان کی شناخت کی تصدیق کے عمل میں ہیں… قتل کے پیچھے محرکات کا تعین کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
(جاری ہے)
‘‘اے ایف پی کے مطابق یہ لاشیں اتوار کو آدھی رات کے کچھ دیر بعد کراچی کے میمن گوٹھ کے علاقے میں ملیں۔
سندھکے صوبائی وزیراعلیٰ نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں پولیس کو ''فوری طور پر قاتلوں کو گرفتار‘‘ کرنے کا حکم دیا۔ اس بیان میں مزید کہا گیا: ''ٹرانس جینڈر افراد معاشرے کا ایک کمزور طبقہ ہیں، اور ہم سب کو انہیں عزت اور وقار دینا چاہیے۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔