Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:04:51 GMT

لیبیا میں پولیس اہلکاروں کے داڑھی رکھنے پر عائد پابندی ختم

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

لیبیا میں پولیس اہلکاروں کے داڑھی رکھنے پر عائد پابندی ختم

لیبیا میں پولیس اہلکاروں کے لیے داڑھی رکھنے پر عائد پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اُس وقت واپس لیا گیا جب عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور فوجی قیادت نے بھی معاملے میں براہ راست مداخلت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزارت داخلہ کے نائب وزیر فرج قعیم نے ہفتے کی شام ایک اہم بیان میں اعلان کیا کہ پولیس اہلکاروں کے داڑھی رکھنے پر پابندی کا فیصلہ منسوخ کیا جا رہا ہے۔
پابندی کیوں لگائی گئی تھی؟
اس سے قبل وزارت داخلہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس اہلکار داڑھی نہیں رکھ سکتے، کیونکہ یہ پولیس کے ظاہری ڈسپلن اور پیشہ ورانہ تاثر کے خلاف ہے۔ حکم نامے میں سختی سے کہا گیا تھا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
پابندی کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر عوامی غصہ پھوٹ پڑا۔ ہزاروں صارفین نے اسے انفرادی آزادی میں مداخلت اور “ظاہری شکل پر غیر ضروری زور” قرار دیا۔ بہت سے افراد نے کہا کہ داڑھی رکھنا ذاتی اور مذہبی آزادی سے جُڑا معاملہ ہے، جسے سرکاری پالیسی کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ایک شہری نے تبصرہ کیاکہ کیا ہم پولیس اہلکاروں کی کارکردگی دیکھیں یا ان کی شکل؟ یہ فیصلہ مضحکہ خیز ہے۔
مخالف رائے بھی موجود
تاہم کچھ حلقوں نے وزارت کے ابتدائی فیصلے کی حمایت بھی کی اور اسے ادارے کے نظم و ضبط اور یکساں شناخت کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہر ادارے کا ایک خاص “پروفیشنل امیج” ہوتا ہے، جسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔
بالآخر دباؤ کے سامنے فیصلہ واپس
عوامی تنقید، مذہبی حساسیت، اور فوجی قیادت کی جانب سے اعتراض کے بعد وزارت داخلہ نے نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ واپس لے لیا۔ نائب وزیر کے مطابق   ہم عوامی جذبات اور انفرادی آزادی کا احترام کرتے ہیں، اسی لیے پابندی کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان