متنازع ٹوئٹ کیس میں اعظم سواتی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اسلام آباد:
متنازع ٹوئٹ کیس میں اعظم سواتی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔ سماعت کے دوران اعظم سواتی کی بریت کی درخواستوں پر دلائل پیش کیے گئے۔
وکیل سہیل سواتی نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹوئٹر سے یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ زیر بحث اکاؤنٹ دراصل اعظم سواتی کا ہے۔ اس کے علاوہ اس مقدمے میں سابق آرمی چیف فریق نہیں ہیں۔
دوران سماعت عدالت میں اعظم سواتی نے کہا کہ قرآن میں ہمیں سچ بات کہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور جو بھی معاملہ آزادی اظہار رائے سے متعلق ہو وہ جرم نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو دفعات ان پر لگائی گئی ہیں ان پر اپنے دلائل عدالت میں جمع کرا دیے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ سچائی پر مبنی بات کہنا ہی اصل ذمہ داری ہے اور اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اعظم سواتی کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو 27 ستمبر کو سنایا جائے گا۔ سماعت میں اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی اپنے وکلا سہیل سواتی، مرتضیٰ طوری اور زائد بشیر ڈار کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
یاد رہے کہ اعظم سواتی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت 2 مقدمات درج ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اعظم سواتی کی بریت کی
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔