بگرام ایئربیس تو دور ہم ایک انچ بھی امریکا کو نہیں دیں گے: افغانستان کا دو ٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
کابل (نیوز ڈیسک)افغانستان نے کہا ہے کہ بگرام ایئربیس تو دور کی بات ہم افغانستان کا ایک انچ بھی امریکا کو نہیں دیں گے۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکی صدر کو جواب میں کہا افغان سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کو داخل ہونے نہیں دیں گے، امریکا افغانستان کو تسلیم کر لے تب بھی زمین حوالے نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان آزاد ملک ہے، کسی بھی بیرونی قبضے کو تسلیم نہیں کریں گے، بگرام ایئر بیس پر چین کے قبضے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر افغانستان نے بگرام ایئربیس واپس نہ دی تو سنگین نتائج ہوں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر افغانستان بگرام ائیربیس واپس نہیں دیتا جنہوں نے اسے بنایا یعنی امریکا نے بنایا تو یہ بہت برا ہوگا۔
اس سے پہلے ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ بگرام ایئربیس امریکا کو نہیں چھوڑنا چاہئے تھا، بگرام فوجی ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایئر بیس اس لئے بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے دورے پر برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے طالبان کو بگرام ائئر بیس مفت میں دے دی لیکن اب ہم اسے واپس لینے کی کوش کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2021 میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران امریکا نے 20 سال بعد بگرام ائیربیس افغان حکام کے حوالے کر دی تھی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بگرام ایئربیس
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔