فلسطین کا دو ریاستی حل؛ تاریخی پس منظر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اعلیٰ سطح کے سالانہ اجلاس کے آج پہلے روز عالمی رہنما دو ریاستی حل پر غور کے لیے جمع ہوں گے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب خطے کی صورتحال شدید کشیدگی کا شکار ہے اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
اقوام متحدہ بھی غزہ کے شمالی علاقے میں قحط کی تصدیق کرچکا ہے جب کہ قطر میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کے بعد سے صورت حال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔
دو ریاستی حل کا تاریخی پس منظر
دو ریاستی حل کا تصور اقوام متحدہ کے قیام سے قبل موجود تھا۔ 1947 میں برطانیہ نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کے سامنے رکھا۔
اس تنازع کے حل کے لیے ایک فلسطینی عرب ریاست اور ایک یہودی ریاست کے قیام کے ساتھ یروشلم کو بین الاقوامی حیثیت دینے کی تجویز دی گئی۔
بعد ازاں 1991 میں میڈرڈ امن کانفرنس اور بعد ازاں 1993 کے اوسلو معاہدے نے فلسطینی خودمختار اتھارٹی کی بنیاد رکھی۔
جس کے بعد 2000 میں کیمپ ڈیوڈ اور 2001 میں طابا مذاکرات بھی کوئی مثبت اور حتمی نتائج دیئے بغیر اختتام پذیر ہوگئے۔
اسرائیلی جارحیت اور ہٹ دھرمی پر امریکا اور متعدد مغربی ممالک کی حمایت کے باعث مسئلہ فلسطین آج تین دہائیوں بعد بھی حل طلب ہے۔
تاہم اب اسرائیل اپنے اتحادی مغربی ممالک کی ایک ایک کرکے حمایت کھوتا جا رہا ہے جس کی تازہ مثال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 12 ستمبر کو فرانس اور سعودی عرب کی پیش کردہ نیویارک ڈیکلیریشن کا بھاری اکثریت سے منظور ہونا ہے۔
اس ڈیکلیریشن میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف دو ریاستی حل کے تحت ہی ممکن ہے۔ جس کے بعد متعدد مغربی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
قرارداد میں جہاں اسرائیل نے یہودی آبادکاری کے خاتمے، فوجی حملے اور خوراک کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا وہں حماس سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسلحہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرکے غزہ پر اپنا حکومتی کنٹرول بھی ختم کردے۔
اقوام متحدہ کے مطابق آج 22 ستمبر کے اجلاس کا مقصد تین دہائیوں سے جاری اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کا حل نکالنے میں مدد دینا ہے تاکہ دونوں ریاستیں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر، یروشلم کو مشترکہ دارالحکومت بنا کر امن اور سلامتی کے ساتھ رہ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دو ریاستی حل اقوام متحدہ کے بعد
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔