قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے صابرہ محلے میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا۔ امدادی کارکن اور مقامی لوگ ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ شہر کے صابرہ محلے میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 25 افراد شہید ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اب تک 55 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے صابرہ محلے میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا۔ امدادی کارکن اور مقامی لوگ ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اب بھی ملبے کے نیچے سے زندہ لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی ڈرونز امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور فائرنگ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔

وسطی غزہ کے بریج پناہ گزین کیمپ میں بھی اسرائیلی فضائی حملے میں سات فلسطینی شہید ہوئے جن میں چار بچے شامل تھے۔ یہ حملہ اقوام متحدہ کے ایک کلینک کے قریب ہوا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 66 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ غذائی قلت اور قحط کے باعث بھی اب تک 440 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں 147 بچے شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صابرہ محلے میں کے مطابق رہے ہیں

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا