سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود کو متفقہ طور پر کمیٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کے بعد پی ٹی آئی سینیٹرز نے سرکاری گاڑیاں واپس کیوں نہیں کیں؟

سینیٹ سیکرٹیریٹ کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کی پریس ریلیز کے مطابق  سینیٹر عمر فاروق نے چیئرمین شپ کے لیے طلحہ محمود کا نام تجویز کیا جس کی تائید سینیٹر سرمد علی نے کی جس کے بعد ایوان نے متفقہ طور پر فیصلہ منظور کیا۔

نئے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے ذمہ داری سنبھالتے ہی کہا کہ دفاعی کمیٹی ایوانِ بالا کی سب سے اہم کمیٹی ہے اور یہ عہدہ ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔

انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران افواج پاکستان کی جرأت اور بہادری کو سراہا اور کہا کہ قومی سلامتی ہر چیز سے مقدم ہے جس کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔

قومی مفادات، دفاعی اصلاحات اور چترال کا خصوصی ذکر

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فوج کا ساتھ دینا قومی مفاد کا تقاضا ہے اور اس حوالے سے تمام اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو پاکستان کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

انہوں نے وزارت دفاع سے منسلک اداروں میں بہتری اور اصلاحات لانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

طلحہ محمود نے کہ سنہ2006  سے مختلف قائمہ کمیٹیوں کا چیئرمین رہ چکا ہوں مگر دفاعی کمیٹی کی سربراہی میرے لیے ایک اعزاز ہے۔

مزید پڑھیے: نفع نقصان کی پروا کیے بغیر سینیٹ کمیٹیوں سے استعفے دے رہے ہیں، بیرسٹر علی ظفر

انہوں نے چترال کی اسٹریٹیجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ دفاعی اعتبار سے انتہائی اہم علاقہ ہے مگر بنیادی انفراسٹرکچر سے محروم ہے۔

انہوں نے چترال ایئرپورٹ کو فوری آپریشنل کرنے اور فلائٹس کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

طلحہ محمود نے کہا کہ کمیٹی چترال کی اہمیت پر خصوصی اجلاس بلا کر تفصیلی بریفنگ لے گی۔

انہوں نے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں اور خستہ حال سڑکوں کی بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ ان علاقوں کو ترقی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

’سعودی عرب معاہدے پر بریفنگ دی جائے‘

سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور کمیٹی کو وزارتِ دفاع کی جانب سے جامع بریفنگ دی جائے۔

مبارکباد اور تعاون کی یقین دہانی

سینیٹر سرمد علی اور سینیٹر عبدالقدوس بزنجو نے چیئرمین طلحہ محمود کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

مزید پڑھیں: ’وزیراعظم جو ذمہ داری دیں گے، وہ دیانت داری سے ادا کریں گے‘: سینیٹر منتخب ہونے کے بعد رانا ثنا اللہ کا بیان

اراکین کمیٹی نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ کمیٹی کے متفقہ فیصلے کو اراکین کے اتحاد اور اعتماد کا مظہر قرار دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

  نوٹس متن  کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف