پاک سعودی تعلقات ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے، وزیراعظم کا سعودی عرب کے قومی دن پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ دیرپا شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دین اسلام ، تاریخ، بھائی چارے اور اعتماد کی بنیاد پر استوار تعلقات ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے وہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور اپنے عزیز سعودی بھائیوں اور بہنوں کو سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر نہایت گرم جوشی کے ساتھ مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
انہوں نے ریاض کے حالیہ تاریخی دورے کے دوران انہیں اور پاکستانی وفد کو ملنے والے والہانہ استقبال اور محبت سے بھرپور مہمان نوازی کو اپنے لیے انتہائی خوشی اور افتخار کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کا ایک بار پھر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام بھی میرے ساتھ شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ہمارا دورہ بے مثال محبت اور یادگار لمحات سے بھرپور رہا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات دین اسلام، تاریخ، بھائی چارے اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں جو ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے، ہم اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب کے عظیم الشان ترقیاتی سفر پر فخر کرتے ہیں جو شہزادہ محمد بن سلمان کی بصیرت افروز قیادت میں جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سعودی عرب معاہدہ کیا کچھ بدل سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ آج سعودی عرب عالمی برادری میں جس بلند مقام پر فائز ہے وہ اس بصیرت اور دانشمندی کی روشن مثال ہے، مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران سعودی قیادت اور عوام کی طرف سے اظہار یکجہتی کو پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، پاکستانی عوام سعودی عرب کے معاشی تعاون کو بھی فراموش نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے ہماری معیشت کو سہارا ملا۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتےہیں اور وہاں کی تعمیر و ترقی میں سرگرم عمل ہیں، پاکستانی برادری کی سعودی عرب میں خدمات دونوں برادر ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات، خوشحالی اور ترقی کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے قومی دن کے پر مسرت موقع پر میں پاکستان کی جانب سے یہ عزم دہراتا ہوں کہ ہم اس دیرپا شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مملکت سعودی عرب کو ہمیشہ ترقی اور عظمت سے نوازے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان سعودی عرب شہباز شریف قومی دن وزیراعظم یوم آزادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان شہباز شریف یوم ا زادی سعودی عرب کے قومی دن انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان کرتے ہیں کے ساتھ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔