حافظ نعیم الرحمن کا سعودی مفتی اعظم کی وفات پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ شیخ عبدالعزیز کی وفات امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ اور لمحہ غم ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مرحوم کی مسلم امہ کے اتحاد کے لیے کی گئی کاوشیں اور ان کی علمی و دینی بصیرت ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ عبدالعزیز کی خدمات دینی و علمی روایت میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کا چھوڑا ہوا علمی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنا رہے گا۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔دریں اثنا امیر جماعت اسلامی نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر سعودی فرمانروامحمد بن سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان، حکومت اور عوام کو دلی مبارک باد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب عظیم برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات قائم ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 25 کروڑ پاکستانی عوام سرزمین حرمین الشریفین سے دلی عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور ہمیشہ سعودی عرب کی خوشحالی و استحکام کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔ انہوں نے پاک سعودی تعلقات کو تاریخی، مثالی اور امت مسلمہ کے لیے قابل فخر قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ ایک تاریخ ساز قدم ہے جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔