پنجاب حکومت کابینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد سے انکار کردیا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کیا اْن سے عقل لیں جنہوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا؟ حکومت پنجاب اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی مدد کررہی ہے، ہمیں بیرونی امداد کا انتظار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بیرونی امداد کے باوجود لوگ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے، سندھ یا کراچی کا کیا حال ہے؟ کیا ان سے عقل لینے کی ضرورت ہے جنہوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا؟۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ پر تنقید کے بجائے اپنے کام پر فوکس کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو اور یوسف رضا گیلانی نے حکومت پنجاب کے اقدامات کو سراہا ہے،بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ پنجاب کی تعریف کی، بلاول بھٹو کے بیان کو زیادہ معتبر سمجھتی ہوں، باقی سیلابی سیاست کرنے والوں کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد فراہم نہیں کی جا سکتی، جو بی آئی ایس پی سے رجسٹرڈ ہی نہیں انہیں امداد کیسے دی جائے؟ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سیلاب سے 47 لاکھ افراد متاثر ہوئے ، 26 لاکھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا ہے، ابتدائی سروے مکمل کرلیاگیا ہے، سیلاب متاثرہ علاقوں کے کاشت کاروں کو 20 ہزار فی ایکڑ حکومت پنجاب ادا کریگی، اگر کسی کا پکا گھر گرگیا ہے تو اسے 10 لاکھ روپے ادا کییجائیں گے، جس کا کچا مکان گرگیا ہے اس کو 5 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے، کسی کی گائے یا بھینس مرگئی ہے تواسے 5 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔