مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
مکہ مکرمہ+ اسلام آباد + لاہور (ممتاز احمد بڈانی+ نمائندہ خصوصی+ خبر نگار+ خبر نگار خصوصی+ خصوصی نامہ نگار) سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ انتقال کر گئے۔ 1943 میں پیدا ہوئے‘ عمر 81 برس تھی۔ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کو سب سے زیادہ خطبہ حج دینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ نمازِ جنازہ ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی گئی۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یہ بھی ہدایت کی کہ غائبانہ نمازِ جنازہ مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام، مدینہ منورہ کی مسجد نبوی اور مملکت بھر کی تمام مساجد میں عصر کی نماز کے بعد ادا کی جائے۔ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شیخ عبدالعزیز کے اہلِ خانہ، سعودی عوام اور وسیع تر اسلامی دنیا سے تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وفات پوری امت کے لئے لمحہ غم ہے۔ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مرحوم دین اسلام کے عظیم خادم‘ علم و تقویٰ کے پیکر اور امت کے لئے ایک روشن مینار تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے امت مسلمہ کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے شیخ عبدالعزیز کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ الشیخ عبدالعزیز کی خدمات روشن باب ہیں۔ تحریک دعوت توحید کے مرکزی قائد میاں محمد جمیل نے کہا کہ الشیخ عبدالعزیز علم وعمل میں نمونہ سلف عقیدہ توحید وختم نبوت کے چوکیدار تھے، خلا مدتوں پورا نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شیخ عبدالعزیز نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔