پاکستان کا افغانستان کو تنہائی سے نکالنے اور دہشتگردی کے خاتمے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر او آئی سی کانٹیکٹ گروپ برائے افغانستان کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر ملک افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کی آبی جارحیت کو جنگ تصور کیا جائےگا، پاکستان کا او آئی سی اجلاس میں دوٹوک مؤقف
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کو دنیا سے الگ تھلگ نہیں رکھا جا سکتا۔
او آئی سی رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ بلاشرط انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں، تجارت اور بینکاری نظام کو بحال کریں، علاقائی رابطوں کو فروغ دیں اور ایسے مکالمے کو آگے بڑھائیں جو افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کو ممکن بنائے۔
اسحاق ڈار نے افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ یہ عناصر خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں 679 کتابوں پر پابندی، خواتین مصنفین اور ایرانی کتب نمایاں
پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے تجویز دی کہ او آئی سی ماہرین پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے جو افغانستان میں استحکام کے لیے روڈ میپ تیار کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے اخلاص، باہمی احترام اور سیاسی عزم ناگزیر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار افغانستان او آئی سی پاکستان نیویارک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار افغانستان او ا ئی سی پاکستان نیویارک او ا ئی سی کے لیے
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن