19 اپریل کو پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے دورہِ کابل اور اُس کے بعد مئی اور اگست میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے بعد یہ اُمید تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی کے حوالے سے تحفظات دور کیے جائیں گے اور تعلقات آگے بڑھیں گے، جس سے خطّے میں استحکام اور سکیورٹی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

افغان سرزمین سے حملے اور پاکستانی ردِ عمل

لیکن افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی مسلسل دہشت گرد کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان نے 27 اگست کو افغانستان میں موجود دہشتگرد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:20 سال مزید جنگ کے لیے تیار ہیں، بگرام ایئربیس دوبارہ حاصل کرنے کی امریکی دھمکیوں پر طالبان کا ردعمل

دوسری طرف 17 ستمبر کو پاکستانی دفترِ خارجہ نے افغان سفیر احمد شکیب کو دفترِ خارجہ طلب کیا اور تحریکِ طالبانِ پاکستان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ پاکستان نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف سخت ایکشن لے۔

علاقائی عدم استحکام اور بین الاقوامی خدشات

صدر ٹرمپ کے بگرام ائربیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بیان نے بھی خطّے میں سیکیورٹی صورتحال کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے، لیکن پاکستان کا مسئلہ ٹی ٹی پی ہے جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان کو افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں آپریشن کی ضرورت درپیش ہے۔

اقوامِ متحدہ میں تنبیہ اور مطالبہ

18 ستمبر کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں اور یہاں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف بین الاقوامی طور پر ایکشن لیا جانا چاہیے۔

پاکستان کا مؤقف اور مسئلے کی نوعیت

پاکستانی دفترِ خارجہ اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں کو بتاتا ہے کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے ہیں۔

ہم افغانستان کے ساتھ نارمل تعلقات چاہتے ہیں اور تجارت بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ ہمارا مسئلہ صرف تحریکِ طالبانِ پاکستان کے محفوظ ٹھکانے اور وہاں سے پاکستانی سرزمین پر دہشتگرد حملے ہیں۔

افغان طالبان کا کنٹرول اور متفرق گروہ

مبصرین کے مطابق ساری صورتحال کا خلاصہ یہ ہے کہ افغان طالبان پورے افغانستان پر کنٹرول نہیں رکھتے؛ مختلف دہشت گرد گروہ افغانستان کے مختلف علاقوں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان نے بگرام ایئر بیس واپس لینے کے امریکی امکان کو سختی سے مسترد کردیا

اس کے ساتھ ساتھ بیرونی خفیہ ایجنسیوں کا کھیل دہشت گردی کی صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔

بھارت کی ممکنہ مداخلت

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور اقوامِ متحدہ میں سابق مستقل مندوب ایمبیسڈر مسعود خان نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تعلقات کی خرابی میں بھارت کا ہاتھ ہے۔

ان کے بقول یہ شواہد پر مبنی بات کی جا سکتی ہے کہ بھارت افغانستان میں طالبان کے دھڑوں کے بیچ غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کر رہا ہے اور طالبان کو پاکستان کے خلاف بدگمان کرتا رہتا ہے۔ افغانستان میں بھارت کا بڑا نیٹ ورک کارفرما ہے۔

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور اقوامِ متحدہ میں سابق مستقل مندوب ایمبیسڈر مسعود خان۔

مسعود خان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے انہیں اسلحہ اور تربیت ملتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوتی ہے۔

ایمبیسڈر مسعود خان نے کہا کہ افغانستان میں داعش بھی موجود ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق بی ایل اے بھی وہاں سے سرحد پار کر کے پاکستان پر حملے کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے 5 شدت پسند گرفتار

پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ مذاکرات میں یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اس ساری صورتحال میں افغان قیادت کو پہل کرنی چاہیے۔

نظریاتی تعلق اور خفیہ ایجنسیوں کا کردار

ایمبیسڈر مسعود خان نے کہا کہ افغان طالبان اور تحریکِ طالبانِ پاکستان کے درمیان نظریاتی تعلق موجود ہے اور اس ملک میں بہت سی خفیہ ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔

طالبان کا پورے ملک پر مؤقف نہیں، حماد حسن

سینئر صحافی حماد حسن نے وی نیوز کو بتایا کہ افغان طالبان کا اختیار عملی طور پر کابل تک محدود ہے۔ افغانستان میں نہ تو کوئی مستحکم سیاسی حکومت ہے اور نہ ہی جمہوری طرز حکومت، وہاں قبائلی نوعیت کے سردار اور وار لارڈز کا رجحان ہے۔

ان کے مطابق اس وقت افغانستان میں تقریباً 60 دہشتگرد گروہ کام کر رہے ہیں، جن میں جماعت الاحرار، حافظ گل بہادر گروپ، ٹی ٹی پی، آئی ایس خراسان وغیرہ شامل ہیں۔

سینئر صحافی حماد حسن

مختلف علاقوں میں مختلف گروہوں کا غلبہ ہے، جیسے کنڑ میں طالبان، ننگرہار میں داعش، پکتیا اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی، خوست میں حافظ گل بہادر وغیرہ۔ لہٰذا طالبان جو کہتے ہیں وہ پورے افغانستان کی رائے نہیں سمجھا جا سکتا۔

بیرونی مداخلت اور محفوظ ٹھکانے

حماد حسن نے بیرونی مداخلت کے بارے میں کہا کہ افغانستان ایک جنگ زدہ ملک ہے اور جنگ زدہ ممالک میں بیرونی ایجنسیاں اپنے مفادات کے لیے کام کرتی ہیں۔

بیرونی ایجنسیاں اپنی پراکسیز کو متحرک کر دیتی ہیں۔ انہوں نے مثال کے طور پر کہا کہ داعش کے اہم لیڈر سیف العدل اس وقت افغانستان میں موجود ہیں اور ان کے بارے میں سوال اٹھتا ہے کہ انہیں کس نے یا کن صلاحیتوں نے وہاں محفوظ ٹھکانے فراہم کیے۔

بین الاقوامی یکجہتی کی ضرورت

حماد حسن کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک تمام ممالک دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ موقف اختیار نہیں کریں گے، پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان امریکا ٹی ٹی پی حماد حسن دہشتگرد طالبان کابل مسعود خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان امریکا ٹی ٹی پی دہشتگرد طالبان کابل ایمبیسڈر مسعود خان کہ افغان طالبان افغانستان میں محفوظ ٹھکانے افغان سرزمین کہ افغانستان افغانستان کے کہا کہ افغان میں پاکستان پاکستان کے طالبان کا کے درمیان ٹی ٹی پی کے خلاف گردی کے کے ساتھ ہے اور کے لیے یہ بھی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار