data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت دن رہا۔ 100 انڈیکس 291 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 58 ہزار 236 پربند ہوا ہے جو انڈیکس کی تاحال بلند ترین اختتامی سطح ہے۔ شیئرز بازار میں آج ایک ارب 78 کروڑ حصص کے سودے ہوئے جن کی مالیت 54 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد رہی۔

کاروباری روز کے آغاز پر مارکیٹ نے مثبت انداز میں پیش رفت کی اور ابتدائی گھنٹوں میں کے ایس ای 100 انڈیکس 1000 سے زائد پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 159,046.

60 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا جو مارکیٹ کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح ہے .تاہم کچھ دیر کے لیے فروخت کے دباؤ کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور انڈیکس کچھ نیچے آیا مگر دن کے اختتام پر پھر بھی مثبت زون میں بند ہوا۔

پورے دن کے دوران مارکیٹ میں 1 ارب 2 کروڑ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت تقریباً 37.51 ارب روپے رہی جو کہ گزشتہ کاروباری دن کی 58.72 ارب روپے مالیت کے مقابلے میں کچھ کم تھی۔کاروبار کے دوران 483 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں سے 194 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 252 کے شیئرز میں کمی، جبکہ 37 کمپنیوں کے نرخ مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی دلچسپی نمایاں طور پر بینکاری، سیمنٹ، کھاد، تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور سیکٹر اور ریفائنری کے شعبوں میں دیکھی گئی۔ انڈیکس میں نمایاں کردار ادا کرنے والے بڑے اسٹاکس میں این آر ایل، حبکو، ایماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل شامل تھے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ