غزہ میں جنگ بندی وقت کی ضرورت ہے؛ شامی صدر کی اسرائیلی جارحیت کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اپنے ملک پر عائد پابندیوں کو اُٹھانے کا مطالبہ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی صدر احمد الشرع نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
شامی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں شام پر بھی متعدد حملے کیے جس کی مذمت کرتے ہیں۔
تاہم انھوں نے ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ شامی حکومت مذاکرات کے لیے پرعزم ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔
شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے یقین دلایا کہ ملک میں فرقہ ورانہ جنگ کی جگہ نہیں ہے۔ انصاف و مساوات کے قیام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
انھوں نے سابق حکومت کے دور میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، بشمول کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ناانصافی، محرومی اور ظلم برداشت کیا۔ پھر ہم اپنی عزت اور وقار کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
شام کے عبوری صدر نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشنز کو ملک میں آنے کی اجازت بھی دے دی تاکہ شفافیت قائم کی جا سکے۔
انھوں نے شام پر عائد تمام پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔