Jasarat News:
2026-07-24@09:31:02 GMT

بگرام ائر بیس دو۔ ٹرمپ، ایبسلوٹلی ناٹ۔ طالبان

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250926-03-6

 

جاوید احمد خان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر کچھ عرصے کے بعد ایسے متنازع بیان دے دیتے ہیں یا اپنا ایسا منصوبہ ظاہر کرتے ہیں جس کے پورا ہونے کا ایک فی صد بھی امکان نہیں ہوتا پھر جب ان کی کہی ہوئی بات ناکام ہوجاتی ہے اور ان کا منصوبہ ادھورا رہ جاتا ہے تو وہ پھر کسی کا غصہ کسی پر اتارتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے بڑا سینہ پھلا کر کہا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کی جنگ بند کرادیں گے اور اس کے لیے الاسکا میں روسی صدر کا عظیم الشان استقبال بھی کیا تھا لیکن بات نہ بن سکی حالانکہ یو کرین کے کچھ علاقے جن پر روس کا دعویٰ تھا اس کو واپس دینے پر آمادگی ظاہر ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود مذاکرات ناکام ہوگئے روس کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ یوکرین کو ناٹو کا رکن نہ بنایا جائے، اس طرح خدشہ ہے کہ ناٹو کی رسی میں بندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے سارا یورپی اسلحہ روس کے اندر ہوتے ہوئے روس کے مقابلے پر آجائے گا اور ناٹو کے فوجی اڈے بھی قائم ہوسکتے ہیں۔ اب جب کہ روس نے امریکا کی بات نہیں مانی تو امریکا روس کا غصہ بھارت پر ٹیرف بڑھا کر اُتار رہا ہے اس کا کہنا یہ کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچ رہا ہے اور روس اس کی آمدنی سے یوکرین میں عوام کو مار رہا ہے۔ ٹرمپ نے حماس سے کہا کہ وہ یرغمالیوں کو چھوڑدے اور ہتھیار ڈال دے حماس والے نہیں مانے تو اپنا غصہ دوحا پر اُتارا حملے کی آگاہی ہونے کے باوجود اپنے اتحادی کو خبر نہ کی۔

اسی طرح جب وہ برطانیہ کے دورے پر گئے تو انہوں نے وزیراعظم برطانیہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں دورانِ گفتگو ایک عجیب بات کہہ دی کہ ہمیں بگرام ائر بیس نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ہم اس کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ یہ بات تو ٹرمپ نے اتنی آسانی سے کہہ دی کہ جیسے بگرام ائر بیس ہمیشہ سے امریکا کے زیر کنٹرول رہا ہو انہوں نے محض خیرسگالی کے طور پر افغانستان کو تحفے میں دے دیا، اب وہ اپنا دیا ہوا تحفہ واپس لینا چاہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بگرام ائر بیس امریکی فوجوں کا گڑھ یا ایسا مرکز تھا جہاں سے وہ پورے افغانستان کو کنٹرول کررہا تھا یہ کئی کلومیٹرز پر پھیلا ہوا ہے صرف 2 کلومیٹر تو اس کا رن وے ہے دفاتر ہیں کچھ رہائشی علاقے ہیں اسلحے کا بہت بڑا ڈپو ہے۔ ایک قسم کی بہت بڑی ملٹری امپائر تھی۔ 2021 میں دوحا مذاکرات میں امریکا نے کہا تھا کہ ہم صرف بگرام ائر بیس اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں لیکن طالبان کا دوٹوک جواب تھا کہ ہم بیس سال تک اور جنگ لڑ لیں گے لیکن اپنی ایک انچ زمین نہیں چھوڑیں گے چونکہ امریکا بھی تھک چکا تھا وہ کسی طرح افغان بلا سے جان چھڑانا چاہتا تھا اس لیے پھر اس ائر بیس کے لیے زیادہ زور نہیں دیا۔

ٹرمپ کے جو دل میں ہے وہ کھل کر صاف کہہ دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ بگرام ائر بیس سے ایک گھنٹے کے فاصلے وہ جگہ ہے جہاں چین اپنے ایٹمی تجربات کرتا ہے اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے لیکن پھر بھی انہوں نے دل کی ساری باتیں نہیں کیں، چین کے ایٹمی مرکز کے علاوہ ایران پر بھی نظر رکھنے کا پروگرام ہے کہ کہیں وہ چین کی معاونت سے کوئی ایسی ایٹمی پیش رفت کرلے جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہو اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد پورے افغانستان پر نظر ازخود رہے گی۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سن ہی رکھا ہوگا کہ ایک لڑکے سے پوچھا کہ تمہاری شادی کا معاملہ کہاں تک پہنچا اس نے کہا پچاس فی صد کام ہو گیا ہے آدھا باقی ہے۔ پوچھا کیا مطلب میں تو تیار ہوں لڑکی کی طرف سے ابھی ہاں نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے بگرام ائر بیس دوبارہ حاصل کرنے کے لیے افغانستان سے مذاکرات جاری ہیں اوول آفس میں صحافیوں سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بگرام فوجی ائر بیس کی اہمیت بہت زیادہ ہے ہم بگرام ائر بیس واپس لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ائر بیس امریکا کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس علاقے سے صرف ایک گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق بگرام ائر بیس پر محدود تعداد میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کیا جارہا ہے اور ان مذاکرات کی قیادت امریکی نمائندہ خصوصی ایڈم بوبلر کررہے ہیں۔

دوسری طرف طالبان حکومت نے بگرام ائر بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی امریکی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ہمارے اڈے واپس چاہئیں تو اگلے 20 سال مزید لڑنے کے لیے تیار ہیں بیرونی فوج کی موجودگی بحال کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر کی جانب سے بگرام بیس واپس نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو دی گئی سنگین نتائج کی دھمکی کے بعد سامنے آئی ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنوا کی رپورٹ کے مطابق افغان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے میڈیا سے گفتگو میں اس اسٹرٹیجک ائر بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کا جواب دیتے ہوئے کہا واضح رہے کہ ملا یعقوب امارت اسلامیہ افغانستان کے بانی امیر ملا عمر مجاہد کے فرزند ہیں۔ 79 سالہ امریکی صدر نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر افغانستان بگرام ائر بیس ان لوگوں کو واپس نہیں دیتا جنہوں نے اسے بنایا تھا یعنی امریکا کو، تو بہت بری چیزیں ہونے والی ہیں۔ افغان وزارت خارجہ کے سیاسی ڈاریکٹر ذاکر جلالی نے امریکی واپسی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان کبھی بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کو قبول نہیں کرتے اور واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی مکالمے میں دوبارہ فوجی قبضے کا معاملہ خارج ہونا چاہیے۔ بگرام ائر بیس سب سے پہلے روس نے 1950 میں بنایا تھا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو بگرام ائر بیس کو مزید وسعت دی اس کی تعمیر اور تزئین و آرائش میں کروڑوں ڈالر خرچ کیے ایک وقت میں یہاں ایک لاکھ امریکی فوج تھی۔ ٹرمپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ ائر بیس چین کے ہاتھ میں ہے، یہ براہ راست افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ بی بی سی کا ایک ادارہ بی بی سی ویریفائی ہے جو خبروں کی تحقیق کرتا ہے اس نے بھی کہا ہے کہ یہ ائر بیس چین کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

دونوں طرف کا موقف سامنے آگیا امریکا کی خواہش اور افغانستان کا بہت واضح اور صاف انکار اس گتھی کو مزید پیچیدہ بنارہا ہے۔ اب کیا ہوگا میں سمجھتا ہوں پاکستان پر ایک آزمائش آنے والی ہے۔ امریکا پاکستان پر دبائو ڈالے گا کہ افغانستان کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے۔ ہمارا انکار ٹرمپ کے غصے اور جھنجھلاہٹ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اب پرویز مشرف کے دور کا پاکستان ہے اور نہ ٹرمپ کا نائن الیون والا غصہ۔ پاکستان کے انکار سے یہ ہوسکتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور مجید بریگیڈ جو آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی کارروائی کررہے ہیں جس سے پاکستانی فوجی اور افسران شہید ہورہے ہیں انہیں اس وقت افغانستان کی مجبوراً حمایت و سرپرستی، انڈیا کی کھلی حمایت کے ساتھ اب شاید امریکا کی خاموش حمایت بھی حاصل ہوجائے۔ اس کے علاوہ اگر امریکا نے براہ راست افغانستان پر کوئی جارحیت کی اور اپنی فوجیں اُتاریں تو چین اور روس افغانستان کی مدد کو آسکتے ہیں اس طرح یہ خطہ ایک بار پھر خدا نہ خواستہ بڑی قوتوں کے درمیان جنگ کا میدان بن جائے گا۔

 

جاوید احمد خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغانستان کو کہا ہے کہ انہوں نے کرنے کی کے بعد کہا کہ کے لیے نے کہا ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا