Jasarat News:
2026-06-03@02:24:50 GMT

بدین:موسمیاتی تبدیلی سے کسان شدید متاثر ہے ،ہمدم فائونڈیشن

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین (نمائندہ جسارت )ہمدم فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بدین جم خانہ میں “بدین کے ساحلی علاقوں کا کیس اسٹڈی” کے موضوع پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک روزہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ماحولیاتی ماہرین، سرکاری افسران اور سول سوسائٹی نمائندوں نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او ہمدم فاؤنڈیشن شوکت سومرو نے بتایا کہ ان کی تنظیم تعلیم، صحت اور ماحول کے شعبوں میں بدین زیرو پوائنٹ ساحلی برادری کی مدد کر رہی ہے۔ ’’سرمی پروجیکٹ‘‘ کے تحت 100 نوجوانوں کو تربیت دی گئی جبکہ 120 خواتین کو بااختیار بنایا گیا ہے، جن میں سے 80 سے 90 خواتین روزگار سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں کاروچھان سے زیرو پوائنٹ تک ایک لاکھ 70 ہزار پودے لگائے گئے ہیں، جن کے مثبت اثرات آنے والے برسوں میں ظاہر ہوں گے۔سیڈا کے واٹر ایکسپرٹ مسرور احمد شاہوانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے سندھ کے کسانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ آج کا موسم سو سال پہلے کے موسم سے مشابہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو یہ سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے کہ کب اور کون سا فصل کاشت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی پٹی کی سب سے بڑی مشکل زمینوں میں بڑھتی ہوئی نمکیات (سلی نیٹی) ہے، جو فصلوں کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے متبادل روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنے، شہری آبادی پر قابو پانے اور ابتدائی وارننگ سسٹم بہتر بنانے پر زور دیا تاکہ 2022 جیسی تباہ کن سیلابی صورتحال دوبارہ پیش نہ آئے۔ماحولیات کے ضلعی انچارج اور ای پی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالسلام سموں نے کہا کہ بدین میں موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجوہات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گیسوں کا اخراج شامل ہے، جو مقامی صنعتوں، بھٹیوں، تیل و گیس کے ذخائر اور توانائی کے ذرائع سے خارج ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق بدین بارہا سمندری کٹاؤ، سیلاب، سائیکلون اور خشک سالی جیسے خطرات کا سامنا کر چکا ہے، جبکہ 2011ء میں 22 لاکھ ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آگئی تھی۔ڈاکٹر زب ڈھر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست اثر عورتوں، بچوں اور بزرگوں پر پڑتا ہے۔ بدین زیرو پوائنٹ کی برادری کو صحت، صفائی، تعلیم اور محفوظ آمدورفت سے متعلق تربیت فراہم کی گئی ہے۔چیئرمین سیڈا قبول محمد کھٹیا نے کہا کہ 2011ء کی شدید بارشوں کے دوران بدین کے 90 فیصد اسکول تباہ ہوگئے تھے، اور آج بھی کئی اسکول درختوں کے نیچے تعلیم دے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ درختوں کی کاشت اور ان کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔کانفرنس میں ماہرین نے سفارش کی کہ موسمیاتی سمارٹ زراعت، مقامی برادری کی شمولیت، این جی اوز کی معاونت اور حکومتی پالیسی کے ساتھ ہی موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ آلوبخارا، سورج مْکھی، چیکو اور ’’ایری 6‘‘ چاول جیسے فصلیں متاثرہ لوٹیال زمینوں پر کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔

 

 

نمائندہ جسارت گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ