غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامیہ کی قیادت کیلئے ٹونی بلیئر کا نام گردش کرنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامیہ کی قیادت کیلئے ٹونی بلیئر کا نام گردش کرنے لگا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 September, 2025 سب نیوز
غزة(آئی پی ایس )سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا نام غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامیہ کی قیادت کے لیے سامنے آرہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس منصوبے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے بھی حمایت کی جا رہی ہے۔منصوبے کے تحت ٹونی بلیئر اقوام متحدہ اور خلیجی ممالک کی معاونت سے ایک گورننگ اتھارٹی کی سربراہی کریں گے، جو بعد میں اختیار فلسطینیوں کو واپس سونپ دے گی۔
ٹونی بلیئر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں غزہ کے عوام کو بے دخل کیا جائے۔رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کو غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی (گیٹا) کا نام دیا جاسکتا ہے جو پانچ سال کے لیے غزہ کی سب سے بڑی سیاسی و قانونی اتھارٹی کے طور پر اقوام متحدہ سے مینڈیٹ حاصل کرے گی۔ ابتدائی طور پر یہ اتھارٹی مصر میں غزہ کی جنوبی سرحد کے قریب قائم ہوگی اور حالات مستحکم ہونے پر ایک کثیر القومی فورس کے ہمراہ غزہ میں داخل ہوگی۔
بتایا گیا ہے کہ ٹونی بلیئر نے اگست میں وائٹ ہاس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جس میں غزہ کے مستقبل کے منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔خیال رہے کہ ٹونی بلیئر، جنہوں نے 2003 میں برطانیہ کو عراق جنگ میں شامل کیا تھا، 2007 کے بعد مشرق وسطی کے لیے چار فریقی گروپ (امریکا، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ) کے خصوصی ایلچی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی صدر محمود عباس نے گزشتہ روز کہا کہ وہ دو ریاستی امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے صدر ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا ء کپ میں شاندار کم بیک: عرفان پٹھان بھی پاکستانی ٹیم کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے ایشیا ء کپ میں شاندار کم بیک: عرفان پٹھان بھی پاکستانی ٹیم کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے اسرائیل 48 گھنٹے میں صمود فلوٹیلا پر بڑا حملہ کر سکتا ہے، گریٹا تھنبرگ کا ویڈیو پیغام صدر مملکت کا حالیہ دورہ چین، جدید لڑاکا جے 35 بارے بریفنگ لی: سلیم مانڈوی والا بھارتی فضائیہ نے اڑتے تابوت کہلائے جانیوالے MiG-21 طیاروں سے بلآخر جان چھڑالی دوکانداروں ، کاروباری شخصیات کو ناجائز تنگ کرنے اور فائر سیفٹی کے نام پر تنگ کرنے بار ہوش ربا انکشافات ،، ایڈیشنل ڈائریکٹر عماد... سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کی وجہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہیں ہے، خواجہ آصف
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انتظامیہ کی ٹونی بلیئر کے بعد کا نام
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔