غزہ میں نسل کشی کی مذمت انسانیت کا تقاضا ہے، یہود دشمنی نہیں؛ برطانوی اداکارہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
برطانیہ کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ایما واٹسن نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
فلم کی جادوئی دنیا کی ہرمیون گرینجر یعنی ایما واٹسن ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ مگر اس بار بات کسی فلم، فیشن یا ایوارڈ کی نہیں بلکہ فلسطین کے حوالے سے ان کے موقف کی ہے۔
ایما نے ایک پوڈکاسٹ میں کھل کر بتایا کہ جب انہوں نے 2022 میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا تو انہیں ’’یہود دشمن‘‘ قرار دیا گیا تھا۔
اداکارہ ایما راٹسن نے مزید کہا کہ اس وقت وہ حیران رہ گئیں کہ انسانیت کی بات کرنے پر انہیں نفرت سے جوڑا گیا۔
ایما واٹسن نے کہا کہ مجھے یہودی مخالف کہہ کر دراصل لوگوں کو اس طرف مائل کیا گیا کہ وہ دہشت گردی کی مذمت نہ کریں اور فلسطین میں جاری نسل کشی پر بات نہ کریں۔
اداکارہ نے زور دے کر کہا کہ 50 ہزار فلسطینی شہری جان سے گئے، جن میں 17 ہزار بچے بھی شامل ہیں، یہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسی طرح حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی شہریوں کے لیے بھی فکر کی گنجائش ہونی چاہیے۔
ایما واٹسن نے کہا کہ یہود دشمنی اور فلسطینی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانا دو الگ باتیں ہیں، اور انسانیت کا تقاضا ہے کہ دونوں پر کھل کر بات کی جائے۔
یاد رہے، ایما واٹسن نے ہیری پوٹر سیریز سے عالمی شہرت حاصل کی اور ہمیشہ سماجی اور انسانی مسائل پر اپنی آواز بلند کرنے کے لیے پہچانی جاتی ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایما واٹسن نے کہا کہ
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔