کانگریس لیڈر نے کہا کہ بھارت کے سرحدی علاقوں میں امن قائم ہونا چاہیئے، محبت و پیار اور بھائی چارے کی فضا قائم ہونی چاہیئے، یہ ہمارے ملک کے مفاد میں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ راجستھان کے سابق وزیراعلی اشوک گہلوت نے ادے پور میں مختلف مسائل پر ریاستی اور مودی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد چاہے منی پور ہو یا لداخ میں، یہ واضح ہے کہ مودی حکومت مسائل کو غلط طریقے سے سنبھال رہی ہے اور چیزوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے جودھ پور میں سماجی کارکن سونم وانگچک کی گرفتاری اور قید پر بھی سوال اٹھایا۔ سنیچر کو سرکٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کئی موجودہ مسائل پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ منی پور میں تشدد کا ماحول بن رہا ہے، مرکزی وزارت داخلہ اس کے اسباب پہلے ہی معلوم ہوں گے، اگر پہلے ہی وقت رہتے بات چیت کر لی جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منی پور میں تشدد کو ڈھائی سال ہوچکے ہیں، اتنی خونریزی ہوئی ہے، حالات اب اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ وزیر اعظم مودی کے دورہ کے بعد بھی تشدد بھڑک اٹھا۔

لداخ کے سماجی رہنما سونم وانگچک کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے اشوک گہلوت نے کہا کہ سونم وانگچک کافی عرصے سے وہاں اپنے مطالبات اٹھا رہے تھے، وہ مودی کے بہت بڑے حامی بھی رہے ہیں، اچانک ایسا کیا ہوا کہ ان کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے اور انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کونسا دہشتگرد ہیں کہ انہیں سیدھا جودھ پور جیل بھیجنا پڑا، یہ فیصلہ کیوں لیا گیا سمجھ سے بالاتر ہے، حکومت ان تمام معاملات کو غلط طریقے سے سنبھال رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سرحدی علاقوں میں امن قائم ہونا چاہیئے، چاہے وہ لداخ ہو، منی پور، جموں و کشمیر یا کوئی اور خطہ، محبت و پیار اور بھائی چارے کی فضا قائم ہونی چاہیئے، یہ ہمارے ملک کے مفاد میں ہے۔ اشوک گہلوت نے کنہیا لال قتل کیس کے معاملے پر ایک بار پھر مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو اب تک انصاف مل جانا چاہیئے تھا، ہماری حکومت نے چار گھنٹے میں ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا، ہماری حکومت ہوتی تو اب تک انصاف مل چکا ہوتا اور ملزمان کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک پور میں منی پور

پڑھیں:

گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال

فائل فوٹو

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔

گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں