Jasarat News:
2026-07-24@13:21:53 GMT

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے

اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

گزشتہ بیس پچیس برس سے اقوامِ متحدہ کور کرتا رہا ہوں اور پاکستانی سیاست و خارجہ پالیسی کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں یقین مانیں، کئی برسوں کے بعد وہ احساس پیدا ہوا ہے کہ پاکستان ایک منفرد عالمی مقام پر کھڑا ہے۔ ایک ایسا مقام جسے ہم نے پہلے کم ہی محسوس کیا تھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس پیش رفت کو اندرونِ ملک کئی حلقے شک و تردد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کا ماضی شفاف نہیں رہا، اسی بنا پر عوام میں ان کی نیت پر مکمل اعتماد موجود نہیں۔ تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اکثر اوقات ریاستی فیصلے مخصوص مفادات کے تابع رہے ہیں۔ پھر بھی موجودہ عالمی نظم اور حالات کچھ مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک خطرناک زمانے میں، جب عالمی محاذ بن رہے ہیں اور طاقتیں نئے اتحاد بنا رہی ہیں، پاکستان کو جو توجہ اور مقام ملا ہے وہ پہلے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ امریکا، چین، سعودی عرب، دیگر عرب ریاستیں، ایران، روس اور ترکی— سب نے پاکستان کی طرف نظریں اُٹھا رکھی ہیں۔ بعض مواقع پر غیر متوقع اتحاد و خیرمقدم بھی سامنے آئے ہیں، جو ہمارے لیے حیران کن بھی ہیں اور معنی خیز بھی۔ اقوام متحدہ میں جو پذیرائی ملی وہ غیرمعمولی رہی۔ مگر اس عزت کا ایک تلخ پہلو بھی ہے: یہ مقام جزوی طور پر اس پس منظر کی وجہ سے ملا جس میں انڈیا جیسے دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی اور پاکستان نے بھر پور جواب دیا گناہگار ہونے کے باجود اللہ نے اپنا کرم کیا اور پھر راتوں رات ہماری قسمت بدلی، دنیا کا رُخ بدلا۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ جنگ ہار جاتے تو پاکستان نہ صرف تہی دست ہوتا بلکہ اندرونی بحران کا شکار بھی ہو سکتا تھا۔ مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا اور آج کا پاکستان مختلف ہے۔ اور آج کا پاکستان انڈیا کی لونڈی بن جاتا جب بھی مودی صاحب چاہتے جو بھی چاہتے وہ کرتے؟؟

یہ تمام خوش خبریاں اور عزت اگرچہ باعث ِ تسکین ہیں، مگر ان کے ساتھ بڑی تشویش بھی وابستہ ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان دوبارہ بین الاقوامی مفادات کا آلہ ِ کار بنے گا؟ کیا ہم اس میں شریک ہو جائیں گے کہ فلسطین کی قربانیوں کو پس ِ پشت ڈال کر کوئی بین الاقوامی سمجھوتا جائز ٹھیرایا جائے؟ جب ستر ہزار کے قریب افراد شہید ہو چکے ہوں اور لاکھوں بے گھر ہوں، تو یہ سوال محض اخلاقی نہیں بلکہ قومی ہوا کرتا ہے۔ ہماری پالیسیوں اور ہماری قیادت کا امتحان ہے۔ مزید برآں، وہ کامیابیاں جو آج ہمیں بین الاقوامی طور پر ملی ہیں، کیا ان کے حقیقی ثمرات عوام تک پہنچیں گے؟ یا یہ صرف چند خاندانوں، جغرافیائی مفادات اور طاقت کے مراکز کے لیے سود مند ثابت ہوں گے؟ اگر حکمران اور اسٹیبلشمنٹ اپنی قدیم سوچ ترک نہ کریں تو یہ مقام بھی وقتی اور استعمال شدہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمارے لیے ذلت کا اگلا پڑاؤ بننے کا خطرہ ہمیشہ موجود ہے۔ لہٰذا ایک واضح راہ یہی ہے: بین الاقوامی کامیابی کو جمہوری شفافیت، معاشی بہتری اور عوامی بہبود سے جوڑا جائے۔ کامیابی تب حقیقی کہلائے گی جب اس کے ثمرات ملک کے عام شہری تک پہنچیں، جب ادارے جوابدہ ہوں اور فیصلے شفاف ہوں۔ بصورتِ دیگر بین الاقوامی توجہ محض آئینی اور سیاسی دکھاوے کے زمرے میں رہ جائے گی اور پھر اس عظمت کے بعد ڈر یہی ہوگا کہ اگلا مرحلہ ذلت ہو۔ کیونکہ الحمدللہ یہ عزت صرف حکمرانوں تک محدود نہیں بلکہ عام پاکستانی بھی اسے محسوس کر رہے ہیں۔ دنیا کے لوگوں کا پاکستانیوں کو دیکھنے کا نقطہ ٔ نظر بدل رہا ہے۔ جس طرح پہلے پاکستانیوں کی پہچان دبے دبے انداز میں یا محض ذاتی سطح پر رہتی تھی، اب پاکستان کا بھرپور تعارف عوام کے سامنے آیا ہے۔

جہاں تک مسلم ممالک کا تعلق ہے، اس فرق کو بھی نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد مسلم دنیا میں پاکستانیوں کے ساتھ رویّے یکسر بدل گئے تھے۔ آج انڈیا پر سفارتی و سیاسی اور جنگی برتری حاصل کرنے اور دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کے بعد وہی کیفیت ایک بار پھر دیکھی جا سکتی ہے۔ امریکا میں رہنے والے پاکستانی اس تبدیلی کو بخوبی محسوس کر سکتے ہیں۔ سوائے چند شکوہ کرنے والے بھائیوں کے، زیادہ تر خوش اور مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہی گواہی غالباً عرب ممالک میں مقیم پاکستانی بھی دیں گے کہ وہاں عام عرب مسلمانوں میں پاکستانیوں کے ساتھ رویّے بدل گئے ہیں اور عزت و احترام میں اضافہ ہوا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ دور پاکستان کے عوام کے فائدے میں ثابت ہو — ورنہ یہ عظمت عنقریب مایوسی میں بدل سکتی ہے۔

معوذ اسعد صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کے بعد

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • دریائے راوی میں بلوکی بیراج کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا
  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر