امریکا کی ایچ ون بی نئی ویزا پالیسی، کونسے ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
امریکا میں ایچ ون بی ویزا فیسوں میں اضافے کے بعد کئی ممالک نے غیر ملکی ماہرین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
یہ ممالک اپنی ویزا پالیسیوں میں تبدیلیاں بھی کر رہے ہیں تاکہ دنیا بھر سے ان باصلاحیت لوگوں کو اپنی طرف کھینچ سکیں جو اس سے قبل امریکا جانے کو ترجیح دیتے تھے۔
برطانیہ
فنانشل ٹائمز کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹرمر ماہرین کے لیے ویزہ فیس مکمل طور پر ختم کرنے کی تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔ ان کی ‘گلوبل ٹیلنٹ ٹاسک فورس’ دنیا بھر سے ان سائنس دانوں اور ڈیجیٹل ماہرین کو برطانیہ لا کر معاشی ترقی کو فروغ دینا چاہتی ہے جو اس سے قبل عموماً اپنی خدمات امریکا کو دے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے ایچ ون بی ویزا قوانین میں نئی پابندیوں کے بعد ترمیم کی تجویز پیش کردی
چین
بیجنگ یکم اکتوبر سے نیا ‘کے ویزا’ متعارف کرا رہا ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو کسی پیشگی ملازمت یا تحقیقی آفر کے بغیر چین میں پڑھنے اور کام کرنے کی اجازت دے گا۔ وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ چین دنیا بھر کے اعلیٰ صلاحیت رکھنے والے افراد کو خوش آمدید کہتا ہے۔
جنوبی کوریا
جنوبی کوریا کے صدارتی چیف آف اسٹاف کانگ ہون-سک نے کہا ہے کہ حکومت امریکا کی ویزہ پالیسی میں تبدیلیوں سے فائدہ اٹھا کر غیر ملکی سائنس دانوں اور انجینئروں کو متوجہ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے سال بجٹ میں مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ایچ ون بی ویزا اب صرف امیروں کے لیے رہ گیا؟
کینیڈا
کینیڈا نے 15 ستمبر کو اپنے ‘کمپری ہینسو رینکنگ سسٹم’ کے اسکور کی حد کم کر دی تاکہ مزید ماہرین مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں۔ کینیڈا اس سال دوبارہ اس اسکیم کو بھی متعارف کرا سکتا ہے جو 2023 میں ایچ-1 بی ویزہ رکھنے والوں کو تین سال تک کینیڈا میں زیادہ سازگار شرائط پر رہنے کی اجازت دیتی تھی۔
یہ اسکیم 10 ہزار درخواستوں کی حد پوری ہونے پر جولائی میں بند کر دی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایچ ون بی برطانیہ ویزا پالیسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایچ ون بی برطانیہ ویزا پالیسی ایچ ون بی
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔