پاک،امریکا بہتر تعلقات بڑی کامیابی، فوری فوائد کا امکان نہیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پاک، امریکا تعلقات میں بہتری بڑی کامیابی ہے تاہم اسے فوری فوائد ملنے کا امکان نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں دوسری مرتبہ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے بہت سے عالمی رہنمائوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا، یوکرین کے صدرکے ساتھ ہونیوالا تماشا ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
اس پس منظر میں 25 ستمبر کو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے وائٹ ہائوس کے دورے کے حوالے سے مبصرین متجسس تھے کہ ان کا استقبال کیسا ہوگا۔
صدر ٹرمپ جو ہر ملاقات کو پبلسٹی میں تبدیل کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں نے اس مصروفیت کو بند دروازوں کے پیچھے رکھ کر بہت سے لوگوں کو حیران کردیا، رسمی بات چیت سے پہلے روایتی اوول آفس پریس کی دستیابی واضح طور پر غائب تھی۔
اس کے بجائے وائٹ ہائوس نے صرف ایک مختصر وڈیو کلپ اور چند تصاویرجاری کیں جن سے ملاقات کے حوالے سے محدود معلومات ہی ملتی ہیں۔
ان تصاویر اور سرکاری اعلان سے ملاقات خوشگوار اور تعمیری دکھائی دی، جو ٹرمپ کے معمول کے جارحانہ انداز کے بالکل برعکس تھی، اس ملاقات نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بھی ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کی۔
ٹرمپ کی وائٹ ہائؤس میں واپسی سے پہلے، زیادہ تر ماہرین پاک، امریکا تعلقات کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں تھے لیکن ان کے یہ تجزیے غلط ثابت ہوئے۔
جب وزیر اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل کے ہمراہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تو یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے حوالے سے
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔