نیوزی لینڈ کے واحد باز ’کَاری آریا‘ کو سال 2025 کے پرندے کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی جہاں اس نے 73 دیگر امیدواروں کو شکست دے کر یہ اعزاز اپنے نام کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی حدت نے پرندوں کی بقا خطرے میں ڈال دی، سائنسدانوں کی وارننگ

دی گارڈین کے مطابق خطرے سے دوچار یہ تیز رفتار شکاری پرندہ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مقابلے میں کَاری آریا نے 21 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

اس سال کے ’برڈ آف دی ایئر‘ مقابلے میں تمام 73 پرندوں کے لیے رضاکار مہم منیجرز مقرر کیے گئے تھے جنہوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے میمز، ریلز اور ہاتھ سے بنے ہوئے پوسٹرز جیسے تخلیقی ذرائع استعمال کیے۔

نیوزی لینڈ کے محکمۂ تحفظ کے مطابق اس وقت صرف 5 تا 8 کَاری آریا ہی باقی بچے ہیں جو عام طور پر جنگلات، چٹانوں یا گرے ہوئے درختوں کے نیچے رہائش اختیار کرتے ہیں۔

تحفظاتی تنظیم فارسٹ اینڈ برڈ کی چیف ایگزیکٹو نکولا ٹوکی جن کی تنظیم نے اس مقابلے کا انعقاد کیا نے کہا کہ میمز اور مزاح کے پیچھے ایک سنجیدہ پیغام چھپا ہے۔

مزید پڑھیے: وائلڈ لائف سندھ کی کارروائی: ایک ہزار سے زیادہ پرندے برآمد

انہوں نے مزید کہا کہ اس سال کے ٹاپ 10 پرندے مکمل طور پر اعداد و شمار سے میل کھاتے ہیں اور ان میں سے 80 فیصد خطرے میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسکن کی تباہی، موسمیاتی تبدیلی اور غیر مقامی شکاریوں کی موجودگی کئی اقسام کو معدومی کے دہانے تک لے جا رہی ہے مگر عوامی شعور ایک طاقتور ہتھیار بن سکتا ہے۔

ٹوکی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مقابلے میں شامل کاکاپو اور کَرورے بلیک رابن جیسی اقسام قومی طور پر نازک شمار کی جاتی ہیں جن کی تعداد 300 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا میں پرندے کا سب سے بڑا مجسمہ کہاں نصب ہے؟

برڈ آف دی ایئر کا یہ مقابلہ 20 سال قبل شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد نیوزی لینڈ کے مقامی پرندوں کو درپیش خطرات کو اجاگر کرنا تھا جن میں شکار، انسانی سرگرمیاں اور قدرتی مسکن کی تباہی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ مقابلے میں ک اری آریا

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: میاں بیوی پر بہیمانہ تشدد کرنے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گرفتار
  • پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز آج رات اہم مقابلہ، سب کی نظریں میچ پر
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • ویمنز ٹی20 رینکنگ؛ پاکستانی اسپنر سعدیہ اقبال بڑے اعزاز سے محروم
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی