ملک بھر میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اگست 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی تھی۔
نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ڈسکوز کے اگست کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے نیپرا ہیڈ کوارٹر میں عوامی سماعت چیئرمین نیپرا کی زیر صدارت مکمل ہوگئی۔
نیپرا کی جانب سے کہا گیا کہ عوامی سماعت میں سی پی پی اے جی کے عہدے دار، بزنس کمیونٹی، وزارت توانائی کے نمائندوں، صحافی حضرات اور عوام نے شرکت کی۔
سی پی پی اے جی نے ایف سی اے کی مد میں 19 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست جمع کروائی تھی، اس کا اطلاق صرف ایک ماہ کے لیے ہو گا۔
نیپرا کی جانب سے کہا گیا کہ اتھارٹی نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آرا کو تسلی سے سنا، اتھارٹی ڈیٹا کی مزید جانچ پڑتال کے بعد اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی۔
واضح رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اگست کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 19 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنےکی درخواست نیپرا میں دائر کی تھی۔
نیپرا کے مطابق ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق ایک ماہ کے لیے کیا جائے گا جب کہ حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے-الیکڑک صارفین پر بھی ہوگا۔
اکتوبر کے بلوں میں اگست کی ماہانہ ایڈ جسٹمنٹ کا اطلاق کیے جانے کا امکان ہے، نیپرا نے رواں ماہ کے الیکٹرک کے لیے جون اور جولائی کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹس کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
اس وقت کے الیکٹرک صارفین کو 2 ماہانہ ایڈجسٹمنٹس میں 2 روپے57 پیسے فی یونٹ کمی کا ریلیف مل رہا ہے، جبکہ ملک کے ماندہ باقی صارفین کے لیے جولائی کی ماہانہ ایڈ جسٹمنٹ میں ایک روپے 79 پیسے فی یونٹ کی کمی کی گئی۔
علاوہ ازیں، ڈسکوز صارفین کو جولائی کی ایڈ جسٹمنٹ کا ریلیف رواں ماہ کے بلوں میں مل رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماہانہ ایڈجسٹمنٹ پیسے فی یونٹ کی درخواست کی ماہانہ نیپرا کی کا اطلاق ماہ کے کے لیے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔