بھارتی جیل میں قید پاکستانی شہری واہگہ بارڈر کے راستے وطن روانہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے مطابق بھارت میں قید ایک پاکستانی شہری راقیب بلال کو اٹاری واہگہ بارڈر کے ذریعے وطن واپس روانہ کر دیا گیا۔ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت کے
وژن کے مطابق (ہائی کمیشن) بھارتی جیلوں میں موجود تمام پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں قید ایک پاکستانی شہری کو رہا کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ جولائی میں اسلام آباد اور نئی دہلی کی وزارت خارجہ نے ایک دوسرے کے ملکوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا تھا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان نے 246 بھارتی قیدیوں کی فہرست ہائی کمیشن اسلام آباد کے نمائندے کے حوالے کی تھی، جن میں 53 سویلین قیدی اور 193 ماہی گیر شامل تھے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے 463 پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان کے ہائی کمیشن کے ساتھ شیئر کی، جن میں 382 سویلین قیدی اور 81 ماہی گیر شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہائی کمیشن قیدیوں کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔