کینیڈا نے بھارت میں قائم بشنوی گینگ کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے، جس نے کینیڈا میں سرگرم خالصتان تحریک کے حامی سکھ کارکنوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کی تھیں۔

وفاقی وزیر برائے پبلک سیفٹی گیری آننداسنگری نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ اس اقدام سے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو کارروائیوں میں آسانی ہوگی اور شہریوں کو اس گینگ کے خوف سے تحفظ ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سکھوں نے کینیڈا میں بھارتی قونصلیٹ کے گھیراؤ کا اعلان کیوں کیا؟

اعلامیے کے مطابق بشنوی گینگ قتل، فائرنگ، آگ زنی اور بھتہ خوری کے ذریعے کمیونٹیز کو خوفزدہ کرتا ہے اور نمایاں سماجی، کاروباری اور ثقافتی شخصیات کو نشانہ بناتا ہے۔

Today, the Carney government listed the Bishnoi gang as a terrorist group, but somehow failed to mention the only thing that distinguishes them from run-of-the mill criminals: that the Indian state uses them to conduct violence in Canada.

https://t.co/OH3aEZlHPJ pic.twitter.com/BVRHMWkFsx

— Stewart Bell (@StewGlobal) September 29, 2025

نئے قانون کے تحت کینیڈین شہریوں کے لیے اس گروہ کو مالی یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنا جرم ہوگا جبکہ اس کے اثاثے اور اکاؤنٹس منجمد کیے جاسکیں گے۔

گینگ کا سربراہ لارنس بشنوی گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کی جیل میں قید ہے مگر تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ جیل کے اندر سے ہی موبائل فون کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کو چلا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بشنوی گروہ کا تعلق مشہور پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل سے بھی جوڑا گیا تھا۔

یہ گروہ 2023 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا جب کینیڈین پولیس نے الزام لگایا کہ بشنوی نیٹ ورک نے کینیڈا میں سرگرم خالصتان تحریک کے حامی سکھ کارکنوں کے خلاف پرتشدد مہم چلائی۔

مزید پڑھیں:بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کینیڈا میں سکھوں کیخلاف انٹیلی جنس آپریشن کا حکم دیا، کینیڈا

کینیڈا کی مختلف صوبائی پولیس فورسز کا بھی کہنا ہے کہ یہ گروہ عرصے سے ایسے جرائم میں ملوث رہا ہے۔

ادھر بعض ماہرین نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے، کارلٹن یونیورسٹی کی قومی سلامتی کی ماہر لیہ ویسٹ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی فہرست میں نام شامل کرنے کا عمل اب ضرورت سے زیادہ سیاسی ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: کینیڈا: سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے الزام میں 3 بھارتی شہری گرفتار

’بشنوی گینگ قانونی تعریف کے مطابق دہشت گرد تنظیم نہیں بنتا۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے دہشت گردی کے خلاف اصل حکومتی اوزار کمزور پڑ سکتے ہیں۔‘

بشنوی گینگ کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ رواں سال مختلف رہنماؤں نے کیا تھا، جن میں برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ایبی، البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ اور وفاقی کنزرویٹو رہنما پیئر پولیئیور شامل ہیں۔

پولیئیور نے الزام عائد کیا کہ یہ گروہ برٹش کولمبیا، برامپٹن اور کیلگری کے کاروباری افراد سے بھتہ خوری اور دہشت پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:کینیڈا نے سکھ رہنما کے قتل میں ملوث ہونے پر بھارتی سفارتکار کو ملک بدر کر دیا

کینیڈا میں اس وقت دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں 88 گروہ شامل ہیں، اس اقدام کے بعد کینیڈا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بھی نیا موڑ آسکتا ہے۔

دونوں ممالک حالیہ برسوں میں خالصتان تحریک اور سکھ رہنماؤں پر حملوں کے الزامات کے باعث سخت سفارتی کشیدگی کا شکار رہے ہیں، تاہم اب نئی حکومت تعلقات کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اثاثے اکاؤنٹس برٹش کولمبیا بشنوی گینگ بھارت پرتشدد خالصتان تحریک دہشت گردی سفارتی کشیدگی سکھ کارلٹن یونیورسٹی کینیڈا منجمد وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ایبی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اکاؤنٹس برٹش کولمبیا بشنوی گینگ بھارت خالصتان تحریک سفارتی کشیدگی سکھ کارلٹن یونیورسٹی کینیڈا خالصتان تحریک نے کینیڈا میں بشنوی گینگ کے مطابق

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم