UrduPoint:
2026-06-03@07:36:02 GMT

انسٹا گرام اور فیس بک صارفین کو اب فیس ادا کرنی پڑے گی

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

انسٹا گرام اور فیس بک صارفین کو اب فیس ادا کرنی پڑے گی

لندن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 ستمبر2025ء ) سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹا گرام کا اشتہار فری ورژن متعارف کرانے کا اعلان کردیا گیا۔ غیرملکی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق اس پروگرام کے تحت برطانوی ویب صارفین کو ماہانہ 2.99 پاؤنڈ اور موبائل فون صارفین کو 3.99 پاؤنڈ فیس ادا کرنا ہوگی، اس حوالے سے مارک زکربرگ کی کمپنی میٹا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اشتہارات سے پاک سروسز کیلئے صارفین ماہانہ فیس ادا کریں گے، تاہم اشتہارات کے ساتھ پلیٹ فارمز کے استعمال پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی، یہ سبسکرپشن سروس آئندہ چند ہفتوں میں مرحلہ وار متعارف کرائی جائے گی، جو صارفین سبسکرپشن نہیں لیں گے وہ بدستور اشتہارات دیکھتے رہیں گے۔

بتایا جارہا ہے کہ مذکورہ ماڈل یورپی ریگولیٹرز کی بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے جواب میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کے بعد خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیگر ممالک میں بھی مذکورہ ماڈل پیش کیا جائے گا، اس سے قبل یورپی یونین میں بھی میٹا نے اسی طرز کی سروس پیش کی تھی جسے ’ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ‘ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور یورپی کمیشن نے اس سال میٹا پر 200 ملین یورو کا جرمانہ عائد کیا۔

(جاری ہے)

اس معاملے پر یوپی یونین نے قرار دیا تھا کہ میٹا کمپنی کو کم تفصیلی ذاتی ڈیٹا جن میں عمر، صنف اور مقام شامل ہے ان کی بنیاد پر اشتہارات کے لیے ایک مفت ورژن متعارف کروانا چاہیئے تھا‘، اب میٹا کمپنی کی طرف سے مزید کہا گیا ہے کہ مقررہ فیس کی ادائیگی کرنے والے صارفین کو دوران ویڈیو اشتہارات نہیں دکھائے جائیں گے اور نہ ہی ان کا ڈیٹا اشتہارات کے لیے استعمال ہوگا‘۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صارفین کو

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا