اماراتی وزٹ ویزہ قوانین میں ترامیم کے بعد اہم معلومات جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 ستمبر2025ء ) متحدہ عرب امارات کے وزٹ ویزہ قوانین میں ترامیم کے بعد اہم معلومات جاری کردی گئیں، نئے ضوابط میں مصنوعی ذہانت، تفریح، تقریبات، کروز شپ اور لگژری یاٹ کے ماہرین کے لیے وزٹ ویزہ کے چار نئے زمرے بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ خلیجی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اپنے وزٹ ویزہ قوانین میں اپ ڈیٹس کی ایک سیریز کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت چار نئے ویزہ زمرے متعارف کرائے گئے اور کئی موجودہ اجازت ناموں کے دورانیے اور شرائط میں ترامیم کی گئی ہیں، ان تبدیلیوں کے ایک حصے کے طور پر وفاقی اتھارٹی برائے شناخت اور شہریت، کسٹمز اور پورٹ سکیورٹی (ICP) نے یو اے ای کے رہائشیوں کے لیے ایک وزیٹر کی کفالت کے لیے کم از کم ماہانہ آمدنی کی شرط مقرر کی ہے۔
(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ اپ ڈیٹ کردہ قوانین کے تحت فوری طور پر کنبہ کے افراد کو یو اے ای لانے کے خواہشمند رہائشیوں کو کم از کم 4 ہزار درہم ماہانہ کمانا ہوں گے، دوسرے یا تیسرے درجے کے رشتہ داروں کو سپانسر کرنے کے لیے ماہانہ تنخواہ کم از کم 8 ہزار درہم ہونی چاہیئے، جب کہ دوستوں کو سپانسر کرنے کی صورت میں کم از کم 15 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ کی ضرورت ہوگی، کم از کم تنخواہ کی یہ شرط آئی سی پی کی متعارف کرائی گئی تبدیلیوں کے وسیع سیٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد شفافیت کو بڑھانا، معاشی تنوع کو سپورٹ کرنا اور باصلاحیت افراد کو متحدہ عرب امارات کی طرف راغب کرنا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے وزٹ ویزہ کے چار نئے زمرے مصنوعی ذہانت، تفریح، تقریبات، کروز شپ اور تفریحی جہازوں کے ماہرین کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں، اس کے علاوہ ایک انسانی بنیاد پر رہائشی اجازت نامہ ایک سال کی مدت کے لیے جاری کیا جائے گا، مخصوص شرائط کے ساتھ اتھارٹی کے فیصلے کے ذریعے اس میں توسیع بھی ہوسکے گی، یہ فیصلہ غیر ملکی بیواؤں یا طلاق یافتہ خواتین کو بھی سپانسر کے بغیر متحدہ عرب امارات میں رہائش حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے اسی مدت کے لیے تجدید بھی کرائی جاسکے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے متحدہ عرب امارات وزٹ ویزہ کے لیے
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔