کراچی کے مختلف علاقوں میں بادل برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
کراچی کے مختلف علاقوں میں بادل برس پڑے، کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بھارتی ریاست گجرات پر موجود ہوا کا کم دباؤ کا سسٹم کراچی سے تقریباً 340 کلو میٹر دور ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج رات یا کل صبح تک یہ سسٹم بحیرہ عرب میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے تحت سندھ کے مختلف شہروں میں آندھی اور بارش ہوسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سسٹم کے تحت تھرپارکر، عمر کوٹ، سانگھڑ، حیدر آباد اور کراچی میں بارش ہوگی۔
کراچی میں گرومندر، صدر، پرانی سبزی منڈی، لیاقت آباد، ایف بی ایریا، ایف سی ایریا، آئی آئی چندریگر روڈ، اولڈ سٹی، ڈیفنس، کلفٹن کے علاقوں میں بارش ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔