ہم اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید بہتر بنا رہے ہیں؛ ٹرمپ کا فوجی کمانڈرز سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی کمانڈرز سے خطاب میں امریکی جوہری ہتھیاروں، غزہ امن منصوبے اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر پالیسی بیان دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب کوانٹیکو میں جنرلز اور ایڈمرلز سے خطاب کے لیے ڈائس پر پہنچے تو مزاحیہ انداز میں کہا کہ میں نے کبھی کسی جگہ اتنی خاموش نہیں دیکھی۔
انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ سامعین بالکل خاموش رہیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ "اگر کسی کو میری بات پسند نہیں تو وہ کمرہ چھوڑ سکتا ہے، لیکن پھر اس کی رینک اور مستقبل بھی گیا۔" جس پر حاضرین ہنس پڑے۔
صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ہم اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید بہتر اور مؤثر بنا رہے ہیں۔
امریکی صدر نے اس امید کا بھی کا اظہار کیا کہ ہمیں یہ جوہری ہتھیار کبھی استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔