سیاست کیلئے غزہ معاہدے کی مخالفت کی جا رہی ہے،اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
نائب وزیر اعظم ا ور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے سیاست کے لیے غزہ معاہدے کی مخالفت کی جا رہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ وہاں معصوم شہریوں کا خون بہتا رہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 8 مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات کا مقصد غزہ میں امن واپس لانا تھا۔
غزہ میں قیام امن کے لیے وزیراعظم شہباز شریف بالکل واضح تھے، ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے قبل ہی غزہ کے مسئلے پر مسلم ممالک سے رابطے شروع کر دیئے تھے۔
انہوں نےکہا کہ امریکی صدر سے ملاقات سے قبل 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک میٹنگ شیڈول کی، اس میٹنگ کے ایجنڈے میں غزہ میں فوری طور پر سیز فائر کی کوشش، معصوموں کا خون بہنے کا سلسلہ روکنا، پٹی میں امداد پہنچانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ غزہ کے شہریوں کی علاقہ بدری کو روکنا، جو پہلے ہی علاقہ چھوڑ چکے ہیں ان شہریوں کو واپس لانا، تباہ شدہ پٹی کی بحالی کا عمل کو ممکن بنانا اور ویسٹ بینک کو اسرائیل کے ہڑپنے کے پروگرام کا سدباب کرنا تھا۔
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دوران ملاقات تفصیل کے ساتھ اپنا ایجنڈا پیش کیا، جس پر امریکی صدر نے کہا کہ میری ٹیم اور آپ لوگ بیٹھ کر کوئی قابل عمل پرپوزل لے کر آئی۔ جس کے بعد ہماری کچھ ایسی میٹنگ بھی ہوئیں، جن کے حوالے سے اتفاق کیا گیا کہ وہ کلاسیفائیڈ اور سیکریٹ ہوں گی، انہیں پبلک نہیں کیا جائے گا، ان ملاقاتوں کا نہ تو کوئی ذکر ہوگا اور ان ہی ان کی کوئی تفصیل جاری کی جائے گی، ان تمام میٹنگز میں ہم نے شرکت کی۔ ان سیکریٹ میٹنگز کا تمام کام سافٹ ویئر کے بجائے پیپر ورک پر کیا گیا، پیغام رسانی کا کام بھی ہارڈ کاپیز کے زریعےکیا گیا، میسینجر پیغامات کو دونوں جانب پہنچا رہے تھے، ان اجلاسوں کے دوران کچھ تجاویز ہم نے دیں اور کچھ امریکی ٹیم کی جانب سے دی گئیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم امریکا سے لندن روانہ ہو رہے تھے، تو کینیڈا کے بارڈر پر فیولنگ کے دوران ایمبیسڈیر آصف افتخار نے کال کر کے پوچھا کہ کیا یہ یہ پرپوزل ’اَن سائن‘ جائیں گے یا ان پر 8 ممالک کے دستخط ہوں گے۔
وزیرخارجہ کے مطابق ایک دو ممالک سائن کرنے کے بھی خواہشمند تھے، ہم نے کہا کہ وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے، دونوں پرپوزل برابری کی بنیاد پر تھے، جو جمعہ (26 ستمبر) کی رات امریکی سائیڈ تک پہنچ گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کلاسیفائیڈ ملاقاتوں کے حوالے سے پاکستان سمیت آٹھوں ممالک کی کوشش تھی کہ ان ملاقاتوں کو کسی بھی طور پر ثبوتاژ نہیں ہونے دینا۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان آمد پر وزارت خارجہ نے پیغام پہنچایا کہ امریکی صدر کی اسرائیلی وزیراعظم سے گزشتہ روز ملاقات تھی، ہمیں امید تھی کہ اس میٹنگ سے پہلے یا اس میٹنگ کے دن اعلان کر دیا جائے گا، ساتھ ہی امریکی صدر نے مڈل ایسٹ میں امن کے حوالے ایک ٹوئٹ بھی کیا۔
نائب وزیراعظم کے مطابق سعودیہ عرب کے وزیرخارجہ نے رابطہ کر کے کہا کہ، 5 ممالک نے مشترکہ بیان پر اتفاق کر لیا ہے، پاکستان، انڈونیشیا اور یو اے ای کا انتظار کیا جارہا ہے، جس کے بعد ہم نے مشاورت کر کے کچھ مزید تبدیلی تجویز کیں اور انہیں دوبارہ سعودی وزیر کو بھیجا۔
سعودی وزیر خارجہ نے دوبارہ ہم سے رابطہ کر کے بتایا کہ پاکستان کی تجاویز کو قبول کر لیا گیا ہے، یہ رابطے گزشتہ رات گئے تک جاری رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ امریکی صدر نے کہا کہ کیا گیا
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔