سعودی کابینہ کا اجلاس: فلسطین کے حق میں سفارتکاری اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کی توثیق
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
سعودی عرب کی کابینہ کا اجلاس ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مملکت کے سیاسی مؤقف اور حالیہ عالمی واقعات پر پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی غزہ میں جنگ کے خاتمے، امدادی سامان کی فراہمی اور تعمیر نو کی منصوبہ بندی کا خیرمقدم کیا گیا اور اس اعلان کو سراہا گیا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے انضمام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں امن معاہدے کے قریب، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے اس منصوبے کی حمایت کی، ڈونلڈ ٹرمپ
کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ سعودی عرب امریکا کے ساتھ مل کر ایک جامع معاہدہ طے کرنے اور اسرائیلی انخلا کو عملی شکل دینے کے لیے تیار ہے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مزید ممالک نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے۔
کابینہ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے نتائج کو بھی سراہا جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ’صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں پاکستان نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے‘
مزید برآں اجلاس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں سعودی عرب کی فعال شرکت کو مملکت کی عالمی سطح پر نمایاں حیثیت کا مظہر قرار دیا اور اس امر کو سراہا کہ سعودی عرب کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب کیا گیا جو عالمی برادری کے اعتماد کا عکاس ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ سعودی کابینہ اجلاس صدر ٹرمپ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ سعودی کابینہ اجلاس وی نیوز
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔